علی خامنہ ای کی آخری رسومات، نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مسلسل منظرِ عام سے غائب

فہرستِ مضامین

تحریر: اِشفاق احمد

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوسرے روز بھی عوامی منظرنامے پر نظر نہیں آئے، جس کے بعد ان کی صحت، سکیورٹی اور ملکی قیادت سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

اتوار کو ہونے والی نمازِ جنازہ میں سابق رہبرِ اعلیٰ کے تین بیٹے، مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای شریک ہوئے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی، پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور دیگر اہم حکومتی شخصیات بھی موجود دکھائی دیں، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں کہیں نظر نہیں آئے۔

یہ عدم موجودگی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ والد کے انتقال کے بعد انہیں ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا جا چکا ہے، اور مبصرین کے نزدیک یہ ان کی پہلی عوامی موجودگی کا سب سے اہم موقع تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے آٹھ روز بعد رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا، لیکن اس اعلان کے بعد سے نہ انہوں نے کسی عوامی اجتماع سے خطاب کیا، نہ کوئی نئی ویڈیو یا تصویر جاری کی گئی، جس کے باعث ان کی صحت اور کردار سے متعلق مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے دوران ہونے والے حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

مارچ میں ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے زخم معمولی نوعیت کے ہیں اور وہ معمول کے مطابق سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، لیکن بعد ازاں امریکی حکام نے اس مؤقف پر شکوک کا اظہار کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہا تھا کہ یہ بھی واضح نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔

اس کے بعد مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی متضاد رپورٹس شائع کیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ قم میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ دیگر رپورٹس میں کہا گیا کہ ان کا چہرہ شدید زخمی ہوا، تاہم ان کی ذہنی صلاحیتیں متاثر نہیں ہوئیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام مسلسل ان خبروں کی تردید کرتے رہے۔ رہبرِ اعلیٰ کے دفتر سے وابستہ ایک عہدیدار کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو صرف پیر، کمر اور کان کے پیچھے معمولی زخم آئے تھے، جبکہ وزارتِ صحت نے بھی کہا کہ ان کی چوٹیں سطحی تھیں اور کسی مستقل جسمانی معذوری کا باعث نہیں بنیں۔

تاہم جون میں مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن احمد خاتمی نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ کا زخم کافی سنگین تھا اور ڈاکٹروں نے اسے کاٹنے کے امکان پر بھی غور کیا تھا، لیکن علاج کے بعد ٹانگ محفوظ رہی اور اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی نے ایران کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر نئے سپریم لیڈر عوامی سطح پر موجود نہیں تو اس وقت ریاستی معاملات عملی طور پر کس کے ہاتھ میں ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کے اندر طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔

آخری رسومات سے قبل ایرانی سیاسی حلقوں میں امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر شدید اختلافات دیکھنے میں آئے۔ مختلف سیاسی شخصیات نے ایک دوسرے پر غداری، سازش اور نئے سپریم لیڈر کی ہدایات کو نظر انداز کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے۔

ان کشیدہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا، تاہم بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس بیان سے اختلافات کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہو گئے۔ سخت گیر حلقوں نے مطالبہ کیا کہ نئے سپریم لیڈر خود عوام کے سامنے آئیں یا کم از کم آڈیو یا ویڈیو پیغام جاری کریں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو کئی اہم آئینی اور انتظامی تقرریاں کرنا ہوں گی، جن میں عدلیہ کے سربراہ، سرکاری نشریاتی ادارے، بسیج فورس کی قیادت اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے اہم عہدے شامل ہیں۔ ان فیصلوں سے واضح ہوگا کہ وہ ایرانی نظام کے کس سیاسی یا عسکری دھڑے پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔

دوسری جانب علی خامنہ ای کی آخری رسومات کئی روز سے جاری ہیں۔ ایرانی حکومت نے تہران میں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ بعد ازاں جنازے کو ایران اور عراق کے مختلف شہروں سے گزارنے کے بعد جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی قیادت سنبھالی۔ ان کی وفات کے بعد اقتدار کی منتقلی اور نئے سپریم لیڈر کی مسلسل غیر موجودگی نے ایران کی داخلی سیاست اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں