زیارت: بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشت گردوں کے بڑے حملے کے نتیجے میں کم از کم نو پولیس افسران اور اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ 20 اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جوابی کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ پیر کی صبح زیارت کے علاقے مانگی میں مانگی ڈیم پراجیکٹ فیز تھری کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر کیا گیا، جہاں درجنوں جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح افراد نے اچانک دھاوا بول دیا۔ حملے کے فوراً بعد زیارت اور قریبی تھانوں سے اضافی نفری روانہ کی گئی، جس کے بعد کئی گھنٹوں تک دونوں جانب شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ایس پی زیارت عبدالقدوس دہوار کے مطابق جھڑپوں میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین، ایس ایچ او کچھ صحبت خان سمیت سات دیگر پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ تمام شہداء کی میتیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال زیارت منتقل کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر لاپتہ اہلکاروں کی تعداد زیادہ تھی، تاہم 10 سے زائد اہلکار محفوظ طریقے سے واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ 20 اہلکار اب بھی لاپتہ ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف سی، بلوچستان پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، اسپیشل آپریشنز ونگ (ایس او ڈبلیو) اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کر لیا ہے، جس کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے۔
شاہد رند کے مطابق شہداء میں دو ایس ایچ اوز کے علاوہ اے ٹی ایف کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ بھی شامل ہیں، جبکہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ اہلکار دشوار گزار راستوں سے محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور کانسٹیبل رضوان کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد اہلکاروں سے کہیں زیادہ تھی اور وہ جدید خودکار اسلحے، راکٹ لانچرز اور دستی بموں سے لیس تھے۔ ذرائع کے مطابق طویل جھڑپ کے دوران محصور پولیس اہلکاروں کا گولہ بارود ختم ہوگیا، جس کے بعد دہشت گرد متعدد اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ یا اغوا ہونے والوں کی تعداد 20 سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جن میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ وہ شہری بھی شامل ہیں جو حملے کی اطلاع ملنے پر مدد کے لیے پہنچے تھے۔
واقعے کے خلاف زیارت کے شہریوں نے زیارت کراس پر احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ، ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان کو ملانے والی این-50 شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ پولیس کو بروقت کمک فراہم نہ کیے جانے کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ مانگی ڈیم منصوبہ کوئٹہ کو پانی فراہم کرنے والے اہم منصوبوں میں شامل ہے، جہاں ماضی میں بھی سکیورٹی اہلکاروں، انجینئرز اور مزدوروں پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکومتی ترجمان نے حملہ آوروں کو “فتنہ الخوارج” قرار دیا ہے۔