شارجہ سے کراچی آنے والی نجی کمپنی کی کارگو پرواز کے لاپتا ہونے کے واقعے پر کمپنی نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے طیارے اور اس میں سوار عملے سے متعلق اہم معلومات فراہم کر دی ہیں، جبکہ بحیرہ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم گزشتہ رات پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 21 منٹ پر اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے اچانک رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد طیارے سے دوبارہ کوئی مواصلاتی رابطہ قائم نہ ہو سکا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ طیارے میں پانچ افراد سوار تھے، جن میں کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں۔ کمپنی نے تمام اہلکاروں کی محفوظ بازیابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے پیش نظر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعلقہ نجی کمپنی کے دفتر کو ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے سیل کر دیا گیا ہے تاکہ تمام دستاویزات اور شواہد کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ایئر ٹریفک کنٹرول حکام کے مطابق لاپتا طیارے کے پائلٹ نے رابطہ منقطع ہونے سے قبل کوئی “مے ڈے” کال نہیں دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر ہنگامی صورتحال اس قدر اچانک پیدا ہوئی کہ پائلٹ کو خطرے کا سگنل بھیجنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ طیارہ حال ہی میں فنی خرابی کے باعث شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں وہ تقریباً پانچ روز تک مرمت کے عمل سے گزرا۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد طیارہ خالی حالت میں، یعنی فیری فلائٹ کے طور پر کراچی واپس آ رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق طیارے کی مرمت شارجہ میں Northern Techniques نامی کمپنی نے کی، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے ایک سابق مشیر برائے ہوا بازی سے ہے۔ تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا اور بحیرہ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ پاک بحریہ، پاک فضائیہ، سول ایوی ایشن اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر طیارے اور عملے کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ادھر وزیراعظم نے نجی کارگو طیارے کے لاپتا ہونے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عملے کے پانچوں ارکان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے سول ایوی ایشن، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کو ہدایت کی ہے کہ امدادی اور تلاش کی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔