ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تہران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں اور ان کے نزدیک سفارتی عمل کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا۔

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اب “ختم ہو چکا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی قیادت کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کے بقول ایسے مذاکرات وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ کسی مثبت پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی، اس لیے امریکہ اب اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عبوری جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کو مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت مقرر کی گئی تھی تاکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔

تاہم گزشتہ ہفتے قطر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کسی بھی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔ اسی دوران امریکی فوج نے منگل کے روز ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس سے خطے میں تناؤ مزید شدت اختیار کر گیا۔

ادھر آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے لیے ایک اور بڑا اقتصادی اقدام اٹھاتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کی عارضی اجازت بھی منسوخ کر دی۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کے تحت امریکی وزارتِ خزانہ نے 22 جون کو ایک جنرل لائسنس جاری کیا تھا، جس کے ذریعے 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی محدود اجازت دی گئی تھی۔

تاہم تازہ صورتحال کے بعد امریکی حکومت نے یہ لائسنس منسوخ کرتے ہوئے تمام متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تمام مالی اور تجارتی لین دین 17 جولائی تک مکمل طور پر ختم کر دیں۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور امریکی پابندیوں میں مزید سختی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں