راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ تین روز کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 42 سکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گرد حملوں اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 6 جولائی کو زیارت کے قریب منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن اور پانی کی پائپ لائن کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ فورسز نے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق حملے کے دوران دہشت گردوں نے 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مکمل محاصرہ کر لیا اور ان کے فرار کے تمام راستے بند ہو گئے تو دہشت گردوں نے یرغمال اہلکاروں کو بے دردی سے شہید کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ زیارت میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے تمام پولیس اہلکار بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مقامی اہلکار تھے، جنہوں نے انتہائی بہادری سے اپنے فرائض انجام دیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کے روز دہشت گردی کا ایک اور بڑا واقعہ قومی شاہراہ این-25 پر پیش آیا، جہاں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دالبندین، خاران اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جہاں زمینی اور فضائی دونوں ذرائع سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی منظم منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہے، جسے بھارت کی سرپرستی حاصل ہے، جبکہ دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ حالیہ کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی بڑی تعداد افغان باشندوں پر مشتمل ہے، جبکہ ان کے بقول دہشت گردوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور معاونت افغانستان سے کی جا رہی ہے اور اس پورے نیٹ ورک کو بھارت کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بلوچستان کی ترقی کے منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اسی مقصد کے تحت منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن اور پانی کی فراہمی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تاکہ صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز پوری شدت سے جاری رہیں گے اور ریاست پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور انہیں سہولت فراہم کرنے والوں کا ہر سطح پر تعاقب کیا جائے گا اور انہیں کہیں بھی محفوظ پناہ نہیں ملنے دی جائے گی۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنے معصوم شہریوں، بچوں اور بہادر سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔