امریکا کی جانب سے ایران پر ایک ہفتے کے دوران تیسری بڑی فضائی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت، قطر، عمان اور اردن میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں نے گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ایران نے سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا۔
ایران نے حملے کیوں کیے؟
ایران کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں ریڈار، میزائل اور ڈرون مراکز پر مسلسل حملے کیے، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اور اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا، جس کے باعث عالمی جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔
ایرانی قیادت کا سخت مؤقف
ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ “یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔”
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پیغام میں کہا:
“ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا، وعدہ پورا کرو یا قیمت چکاؤ، اب حقیقت تمہارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔”
انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 5 بھی شیئر کی، جو آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق ہے۔
کشیدگی یہاں تک کیسے پہنچی؟
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی نما مفاہمتی یادداشت ابتدا ہی سے کمزور سمجھی جا رہی تھی۔
گزشتہ ہفتے ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں قطر کا ایل این جی ٹینکر بھی شامل تھا۔
اس کے جواب میں امریکا نے ایران کے فوجی اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی عملاً ختم ہوگئی۔
امریکا نے ایران میں کہاں حملے کیے؟
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ ہفتے تین راتوں کے دوران تقریباً 300 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں:
- میزائل اور ڈرون اڈے
- بحری صلاحیتیں
- اسلحہ ذخائر
- مواصلاتی مراکز
- ساحلی نگرانی کے نظام
کو تباہ کیا گیا تاکہ ایران کی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کمزور کی جا سکے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی فضائی حملے لورستان، خنداب اور جنوبی صوبہ بوشہر کے مختلف شہروں بشمول:
- عسلویہ
- دیر
- بوشہر
- دشتی
- تنگستان
میں کیے گئے۔
ایران کا کہنا ہے کہ جانی و مالی نقصان کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایران نے کن ممالک میں حملے کیے؟
عمان
ایران نے دعویٰ کیا کہ عمان کی بندرگاہ دقم میں امریکی بحری جہازوں کی سپلائی اور ایندھن فراہم کرنے والے مراکز پر شدید حملہ کیا گیا۔
قطر
ایران نے قطر کے العدید ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغنے اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
قطر نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائل تباہ کر دیے، تاہم گرنے والے ملبے سے ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔
کویت
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، ریڈار اور اسلحہ ڈپو کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
بحرین
ایران نے بحرین میں امریکی مواصلاتی نظام اور ریڈار سائٹس پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا۔
اردن
ایران کے مطابق اردن کے پرنس حسن ایئربیس میں امریکی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور MQ-9 ڈرون ہینگرز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
آبنائے ہرمز کیوں بند کی گئی؟
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسے جہاز کو وارننگ فائر کیا جو اس کے مقرر کردہ بحری راستے سے ہٹ کر سفر کر رہا تھا، جبکہ ایک دوسرے جہاز کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکا خطے میں اپنی مداخلت ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
یہ آبی گزرگاہ دنیا میں توانائی کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد راستہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس کی بندش عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
خلیجی ممالک کا ردعمل
ایرانی حملوں کے بعد قطر، بحرین، کویت اور عمان میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
- قطر نے ایرانی حملوں کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران کو تمام نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
- عمان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا۔
- کویت نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام دشمن کے فضائی اہداف کو تباہ کر رہے ہیں۔
- بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی۔
اس تازہ کشیدگی کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔