وسیم اختر گورنر سندھ کیوں نہ بن سکے؟ مصطفیٰ کمال نے حقیقت بتا دی

فہرستِ مضامین

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے جنرل ورکر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور پارٹی رہنما مصطفیٰ کمال نے ایک مرتبہ پھر پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی سے متعلق اہم انکشافات اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وسیم اختر کو گورنر سندھ بننے سے کسی اور نے نہیں بلکہ خود خالد مقبول صدیقی نے روکا تھا۔

مصطفیٰ کمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں موجود گورننس کے نظام کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آئینی طور پر اختیارات اور وسائل عوام کی دہلیز تک پہنچائے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور بقا اسی نظام میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں، کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔

وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو وفاق سے 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن اس کے باوجود کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہری سندھ کے حقوق کے لیے 26 جولائی سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

اپنے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے وسیم اختر کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وسیم اختر کا اختلاف ان سے ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق وسیم اختر کے اختلافات ان سے نہیں بلکہ خالد مقبول صدیقی سے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ یہ بات خود خالد مقبول صدیقی نے انہیں بتائی تھی کہ جب وسیم اختر نے گورنر سندھ بننے کی خواہش ظاہر کی تو خالد مقبول صدیقی، جو اس وقت پارٹی کنوینر تھے، انہیں ساتھ لے کر وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گئے اور ایک خط پیش کیا جس میں وسیم اختر کو گورنر سندھ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ملاقات ختم ہونے کے بعد جب وزیراعظم وفد کو رخصت کرنے آئے تو خالد مقبول صدیقی نے علیحدگی میں ان سے کہا کہ “جو خط میں نے دیا ہے، اس پر عمل نہ کیا جائے۔”

مصطفیٰ کمال کے اس بیان کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی اندرونی سیاست سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں