تحریر: اِشفاق احمد
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان ایک مرتبہ پھر دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے؟
پاکستان مسلسل سفارتی کوششوں اور مذاکرات پر زور دے رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے پاس ایسی طاقت یا دباؤ کے ذرائع محدود ہیں جن کے ذریعے وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کو روک سکے۔
جون میں پاکستان کی ثالثی میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد جنگ بندی کو طویل المدتی امن کی طرف لے جانا تھا۔ اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔
لیکن چار ہفتے بھی نہ گزرے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے حالیہ دنوں میں دو مرتبہ گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی۔
امریکا نے پیر کے روز ایران پر نئے حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان، قطر اور عمان سمیت ثالث ممالک اب بھی رابطوں میں مصروف ہیں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایران امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے ردعمل کو جاری رکھنے پر قائم ہے۔
پاکستان نے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے کہا کہ بحران کا واحد قابل عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں خبردار کیا کہ بڑی مشکل سے حاصل ہونے والے امن کو خطرات لاحق ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی صورتحال کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد مزید کمزور ہو چکا ہے، جس کے باعث پاکستان، قطر یا کسی بھی دوسرے ثالث کے لیے دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات پر آمادہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اپریل میں ہونے والی جنگ بندی بھی چند ہی دن برقرار رہ سکی تھی، جبکہ جون میں پاکستان کی کوششوں سے طے پانے والا معاہدہ بھی بار بار کی خلاف ورزیوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا نے معاہدے کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی، جبکہ واشنگٹن ایران پر بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کر رہا ہے۔
تجزیہ کار جاوید حیران نیا کے مطابق پاکستان نے اہم سفارتی کردار ضرور ادا کیا، لیکن اس کے پاس معاہدوں پر عمل درآمد کرانے کا کوئی عملی اختیار موجود نہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے لیے صرف ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور تزویراتی طاقت کی علامت ہے، جس پر تہران کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
دوسری جانب خلیجی امور کی ماہر دانیہ ثافر کا کہنا ہے کہ پاکستان دونوں ممالک سے اچھے تعلقات رکھتا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں اس کی سفارتی گنجائش محدود ہو چکی ہے، کیونکہ واشنگٹن اور تہران دونوں سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تاہم اسلام آباد کے سنوبر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی دونوں ممالک کا قابل اعتماد رابطہ ہے۔ ان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن پاکستان کی سفارتی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
ادھر قطر اور عمان بھی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز پر تنازع کے باعث سفارتی راستہ تیزی سے محدود ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بحال کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر جہازوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ معاہدہ باضابطہ طور پر اب بھی موجود ہے، لیکن اس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکا اور ایران میں سے کون آبنائے ہرمز کے معاملے پر لچک دکھاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک نے فوجی راستہ ہی اختیار کیے رکھا تو خطہ مزید بڑے بحران کی طرف جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان سمیت ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔