امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی وفات کو قدرتی قرار دیتے ہوئے ان کی موت کے حوالے سے گردش کرنے والے تمام سازشی دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے گراہم کی موت کو روس یا دیگر خفیہ سازشوں سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی مجرمانہ سازش کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
ٹی وی چینل نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا گراہم کی موت کے تمام حقائق سامنے آ چکے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں واقعے کی حقیقت واضح ہے اور طبی رپورٹس اس معاملے کو مکمل طور پر بیان کرتی ہیں۔
ٹرمپ نے بتایا کہ واشنگٹن کے چیف میڈیکل ایگزامنر کی رپورٹ کے مطابق لنڈسے گراہم کی موت شہ رگ (Aorta) پھٹنے کے باعث ہوئی، جبکہ ان کے والد بھی تقریباً 69 سال کی عمر میں دل کے عارضے کے سبب انتقال کر گئے تھے، جس سے خاندانی طبی تاریخ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ عوام میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض سنگین اندرونی بیماریوں کا بروقت پتہ نہیں چل پاتا۔ ان کے مطابق گراہم کو بھی ایسے ہی پیچیدہ طبی مسائل لاحق تھے جنہیں عام طبی معائنے سے آسانی سے تشخیص کرنا ممکن نہیں تھا۔
ٹرمپ نے اپنی معروف “ریس ہارس تھیوری” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد بظاہر مکمل صحت مند دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے جسم میں ایسے خطرناک طبی مسائل موجود ہوتے ہیں جو اچانک جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ لنڈسے گراہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے کیف میں ملاقات بھی کی تھی، جس کے بعد ان کی موت سے متعلق مختلف سازشی نظریات سامنے آئے۔ تاہم امریکی حکام پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ ان کی وفات قدرتی وجوہات کے باعث ہوئی۔
دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر ٹومی ٹوبرول نے گراہم کی زندگی کے آخری لمحات کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق گراہم نے اپنی شیڈول کوآرڈینیٹر کو فون کر کے بتایا تھا کہ انہیں سینے میں شدید درد محسوس ہو رہا ہے۔
ٹوبرول کے مطابق جب خاتون نے پوچھا کہ کیا انہوں نے 911 پر کال کی ہے تو گراہم نے جواب دیا کہ اسی لیے تو وہ انہیں فون کر رہے ہیں۔ اس کے بعد خاتون نے فوری طور پر ہنگامی سروسز کو اطلاع دی، تاہم جب وہ گراہم کی رہائش گاہ پہنچی تو امدادی اہلکار پہلے ہی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو چکے تھے اور انہیں بچانے کی کوششیں جاری تھیں۔
لنڈسے گراہم کے دفتر نے سینیٹر ٹوبرول کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔