فوج سے متعلق بیان پر مولانا فضل الرحمان کو عدالت کا نوٹس

فہرستِ مضامین

گوجرانوالہ: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے فوج سے متعلق حالیہ بیان پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا گیا۔

ایڈووکیٹ منظور قادر بھنڈر کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کی متنازع تقریر پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے ایس ایچ او سول لائن اور مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کے لیے نوٹس جاری کر دیے، جبکہ پولیس کو بھی آئندہ سماعت پر اپنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے بیان پر مختلف سیاسی اور مذہبی شخصیات کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے بارے میں ایسے ریمارکس ناقابل قبول ہیں، اور اس پر شہداء کے اہلخانہ سے معذرت کرتے ہیں۔

اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر احسن اقبال، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی اور چیئرمین پی ٹی آئی بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف شہداء بلکہ ان کے اہلخانہ کی دل آزاری کے مترادف ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں