امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 20 فیصد ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کا مجوزہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ترجیح اب خلیجی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ اس مجوزہ پالیسی کے نافذ ہونے سے چند گھنٹے پہلے کیا گیا۔ اس دوران شپنگ انڈسٹری کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی بھی اس فیصلے کے پس منظر میں اہم عنصر رہی۔
صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر یہ فیس اس وقت تجویز کی تھی جب ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور امریکا نے ایرانی بحری سرگرمیوں پر سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی جہازوں کے علاوہ دیگر تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والا تیز اضافہ کچھ حد تک کم ہوگیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات لاحق تھے۔
دوسری جانب امریکا نے مسلسل تیسرے روز بھی ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں گزشتہ ماہ طے پانے والی ایران اور امریکا کی مفاہمتی یادداشت کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایرانی ردعمل کے طور پر اردن کی سمت بیلسٹک میزائل داغے گئے، جبکہ بحرین نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی فضائی حملہ ناکام بنا دیا۔ اردن کے مطابق اس نے چار بیلسٹک میزائل مار گرائے، جبکہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر 20 فیصد ٹرانزٹ فیس نافذ کر دی جاتی تو امریکا کو روزانہ تقریباً 240 ملین ڈالر آمدن حاصل ہو سکتی تھی۔
ادھر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر لازمی ٹرانزٹ فیس کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت ایسی فیس عائد کرنے کی کوئی واضح قانونی بنیاد موجود نہیں۔