امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کے فیصلہ ساز حلقوں میں آئندہ حکمتِ عملی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایک باخبر مگر نام ظاہر نہ کیے گئے ایرانی سفارت کار نے بتایا کہ ایرانی قیادت کے اندر ایک حلقہ امریکہ کے خلاف مزید سخت مؤقف اپنانے اور آبنائے ہرمز کو دباؤ کے اہم ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کا حامی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے برعکس ایک دوسرا، نسبتاً محتاط دھڑا مسلسل عسکری کشیدگی اور امریکی پابندیوں کے باعث معیشت پر پڑنے والے اثرات پر تشویش رکھتا ہے۔ اس حلقے کے مطابق طویل محاذ آرائی سے ایران کو مزید معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی پابندیوں اور دیگر دباؤ کے اقدامات نے ایرانی معیشت کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
رپورٹ میں ایرانی معیشت کی خراب صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جون میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 88.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں سال ایرانی معیشت کے 5.4 فیصد سکڑنے کی پیش گوئی کی تھی، جس میں موجودہ کشیدگی کے باعث مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاشی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ تخمینوں کے مطابق ایران کے صرف 3 فیصد خوشحال خاندان ہی مکمل فوڈ باسکٹ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، جو عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم ایرانی حکومت نے اب تک ان اطلاعات یا قیادت کے اندر اختلافات سے متعلق کسی بھی دعوے کی سرکاری طور پر نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں عسکری کشیدگی کے ساتھ ساتھ معاشی بحران بھی مستقبل میں ایران کی پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔