امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایران نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین، عراق، کویت، عمان، قطر، اردن اور شام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی اقدامات کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ مسلسل چھٹی رات بھی ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائی کارروائیوں میں جنوبی ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک، ریلوے نظام اور صوبہ ہرمزگان میں واقع بندرِ خمیر کا پل شامل ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کم از کم سات افراد جان سے گئے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد خلیجی ممالک نہیں بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں، جنہیں واشنگٹن ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جمعہ کی صبح زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد حکام نے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو موبائل فونز پر حفاظتی پیغامات بھیجے۔ بعد ازاں خطرہ ٹلنے پر سکیورٹی صورتحال معمول پر آنے کا اعلان کیا گیا۔
قطر کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی کہ حملوں کے دوران گرنے والے دھاتی ملبے سے ایک بچہ زخمی ہوا، جسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ قطر نے اس سے قبل ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے متعلق اسرائیلی میڈیا کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔
ایرانی فوج کے مطابق بحرین کے سخیرا فوجی اڈے پر امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے عمان میں امریکی نگرانی کے نظام پر کامیاب حملے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی غنیم کے علاقے میں امریکی فضائی نگرانی کا ریڈار اور آبنائے ہرمز میں نصب بحری نگرانی کا ریڈار تباہ کر دیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اب بھی ایرانی بحریہ کے پاس ہے۔
ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جمعہ کی صبح کویت میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں میزائل دفاعی ریڈار، اسلحہ کے گودام اور دو ہائمارس (HIMARS) میزائل لانچر تباہ کیے گئے۔
ادھر عراق کے شہر اربیل میں کرد انسداد دہشت گردی فورسز کے مطابق امریکی اتحادی افواج نے آٹھ دھماکا خیز ڈرون مار گرائے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اردن کی فوج نے بھی اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کی صبح ملکی فضائی حدود سے گزرنے والے تین ایرانی میزائل تباہ کر دیے۔ حکام کے مطابق گرنے والے ملبے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب نے شام میں التنف فوجی اڈے پر قائم امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ طے پانے والی عارضی جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں سے حاصل ہونے والے اس معاہدے کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ “امن ہماری نظروں کے سامنے ہے، آخری مرحلے پر اسے ناکام نہیں ہونے دینا چاہیے اور جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں انہیں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔”
ادھر ایرانی حکام کے مطابق 22 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سے امریکی حملوں میں اب تک 38 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
نوٹ: اس خبر میں ایران کی جانب سے کیے گئے فوجی دعوے شامل ہیں، جن کی متعدد آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔