قطر نے ایران کے خلاف فوجی اتحاد میں شمولیت کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

فہرستِ مضامین

قطر نے اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دوحہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

قطری حکام کا کہنا ہے کہ یہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد قطر کو جاری تنازع کا حصہ بنانا، اس کے ثالثی کردار کو متاثر کرنا اور خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنا ہے۔

دوحہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قطر کی پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ وہ کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوا اور نہ ہی آئندہ ایسا کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

قطر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ گمراہ کن اطلاعات کو اپنی سفارتی کوششوں پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا۔ حکومت کے مطابق دوحہ خطے میں امن، کشیدگی میں کمی اور تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ بحران کے آغاز سے ہی قطر نے خلیجی ممالک اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے مذاکرات، سفارت کاری اور استحکام کے فروغ کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔

قطری حکام نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دوحہ نے اپنے مذاکرات کار تہران بھیجے تاکہ تناؤ میں کمی، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

قطر کا مؤقف ہے کہ اس کی سفارتی سرگرمیاں خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف فوجی اتحاد میں شمولیت سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات حقیقت کے منافی ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں