بھارت میں طلبہ بغاوت، وزیرِ تعلیم کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

فہرستِ مضامین

نئی دہلی: بھارت میں آن لائن طلبہ تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات تک اس کی احتجاجی مہم جاری رہے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی دہلی میں پیر کے روز ہونے والے بڑے احتجاج کے بعد منگل کو بھی سینکڑوں مظاہرین جنتر منتر پر جمع رہے۔ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ دہرایا۔

پیر کے روز ہزاروں طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ دہلی پولیس کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں 178 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔

تحریک کے رہنما اشوتوش رانکا نے کہا کہ “ہم اپنی جدوجہد نہیں روکیں گے، دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہوگا۔” دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مظاہرین سے پرامن رہنے اور اپنے مطالبات پر ڈٹے رہنے کی اپیل کی۔

احتجاجی منتظمین نے پولیس کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پرامن طلبہ پر طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا، جبکہ حکومت نے اب تک ان کے مطالبات پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کا امتحانی نظام مسلسل تنازعات کی زد میں ہے۔ حالیہ مہینوں میں میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے پر تقریباً 22 لاکھ امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ ہائی اسکول امتحانات کے آن لائن مارکنگ سسٹم سے متعلق بھی ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا، جس نے تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق امتحانی بے ضابطگیوں، بڑھتی بے روزگاری اور سرکاری ملازمتوں کے محدود مواقع نے بھارتی نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں