حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے مذاکرات ناکام، ملک گیر ہڑتال کا اعلان

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: حکومت اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین سے متعلق مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، جس کے بعد پیٹرول پمپ مالکان نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال اور تمام پیٹرول پمپ بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان، وائس چیئرمین نعمان علی بٹ سمیت دیگر عہدیداروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔

مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں۔

چیئرمین ہمایوں خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ڈیلرز کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا، مگر مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان ایک طرف اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، جبکہ دوسری جانب حکومتی پالیسیوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کے روزانہ تعین کی پالیسی کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے اور اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مؤثر مشاورت نہیں کی گئی۔

ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کے بجائے ماہانہ بنیاد پر مقرر کی جائیں اور پیٹرول پمپ ڈیلرز کے کمیشن کا دیرینہ مسئلہ بھی فوری حل کیا جائے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں رات 12 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپ بند رہیں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں