آبنائے ہرمز اور باب المندب بند، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کو ہلا دیا

فہرستِ مضامین

امریکا کے ایران پر مسلسل 11ویں حملے، ایران کا خلیجی امریکی اڈوں پر جوابی وار، آبنائے ہرمز اور باب المندب بند ہونے سے عالمی تجارت خطرے میں

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکا نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکر بحیرہ احمر سے واپس لوٹ گئے۔ باب المندب کی بندش اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارتی راستوں اور تیل کی ترسیل پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق تازہ حملوں میں ایران کے فوجی آپریشن سینٹرز، ڈرون گودام، بحری تنصیبات، طیارہ ہینگرز اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے خوزستان، تبریز، تہران، بوشہر، سیستان و بلوچستان، ہمدان، ایلام اور کردستان سمیت مختلف علاقوں میں کیے گئے، جہاں متعدد دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا کہ “جارحیت کا جواب دینے کا آپریشن جاری رہے گا۔” ایرانی حکام کے مطابق کویت کے کیمپ دوحہ، اردن کے موفق السلطي ایئربیس اور بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس پر امریکی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ 17 جولائی کو اردن میں ایرانی حملے کے دوران لاپتا ہونے والا ایک امریکی فوجی ہلاک ہو چکا ہے، جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو واشنگٹن بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم امریکی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔

اسی دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کو بتایا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ میزائل ذخائر کی بحالی کے لیے مزید 67 ارب ڈالر کی منظوری مانگی گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں