امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ تہران اس وقت بات چیت میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہا۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان (ASEAN) اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اگر ایران سنجیدگی سے مذاکرات چاہتا ہے تو امریکا بھی مثبت اور تعمیری بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی فضائی حملے کیے، جبکہ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز پر ایران کے ممکنہ کنٹرول کو عالمی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر قبضہ کر کے جہازوں سے ٹول وصول کرنے یا حملوں کی دھمکی دینے کی اجازت دی گئی تو یہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت عالمی اصول ہے اور اسے کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی نطنز جوہری تنصیبات پر جلد حملے کی دھمکی دی ہے، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اسے جنگ میں مزید توسیع تصور کیا جائے گا اور امریکا، اس کے اتحادیوں اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں اب تک 50 افراد جاں بحق جبکہ 500 زخمی ہو چکے ہیں۔