تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایران کی سلامتی، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران کی سلامتی کو خطرات لاحق رہے تو خطے میں کسی بھی ملک کی سلامتی یا معاشی مفادات محفوظ نہیں رہیں گے۔
بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ “اگر ایران محفوظ نہیں رہے گا تو پھر کوئی دوسرا ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کا انحصار ایران کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے ایران کی تیل کی برآمدات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “اگر ایرانی تیل فروخت نہیں ہو سکتا تو پھر کسی اور کا تیل بھی فروخت نہیں ہو سکے گا۔” ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا اصول بالکل واضح ہے کہ “یا تو سب رہیں گے، ورنہ کوئی نہیں رہے گا۔”
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر ایران کی سلامتی کی ضمانت موجود نہیں ہوگی تو خطے کے دیگر ممالک کا بنیادی انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت سب کے سامنے واضح رہنی چاہیے۔
محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی امریکی فوج کی عدم موجودگی سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی فوجی موجودگی خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہی ہے اور پائیدار امن کے لیے اس پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے بھی متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اب جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث نئی زمینی حقائق سامنے آ چکے ہیں، جنہیں عالمی طاقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق محمد باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، توانائی کی ترسیل اور آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی سطح پر اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار روزانہ مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے، اس لیے اس حوالے سے ایران کا ہر بیان عالمی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔