20 لاکھ طلبہ، ایک اسکینڈل… کتنی زندگیاں برباد ہوئیں؟

فہرستِ مضامین

بھارت میں میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ (NEET) کے مبینہ پرچہ لیک اسکینڈل نے ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جبکہ اس واقعے سے جڑے کئی افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، آسام کی 20 سالہ ریما بیگم برسوں کی محنت اور مہنگی کوچنگ کے بعد سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے کی امید لگائے بیٹھی تھیں۔ انہیں یقین تھا کہ وہ امتحان میں کامیاب ہو جائیں گی، مگر پرچہ لیک ہونے کے انکشاف اور دوبارہ امتحان کے فیصلے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

رپورٹ کے مطابق چند روز بعد ریما بیگم مردہ حالت میں پائی گئیں۔ مقامی میڈیا اور سماجی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کم از کم 20 طلبہ میں شامل تھیں جنہوں نے امتحانی تنازع کے بعد مبینہ طور پر اپنی جان لے لی۔

ریما کے والد رضاء الاسلام، جو ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے بڑی قربانیاں دیں، دو سال تک مہنگی کوچنگ کرائی اور اپنی جمع پونجی اس کے خواب پر لگا دی۔ ان کے مطابق دوبارہ امتحان کے اعلان کے بعد ریما شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور خاموش رہنے لگی۔

صرف ریما ہی نہیں، راجستھان کے 22 سالہ پردیپ مینا نے بھی دوبارہ امتحان کے اعلان کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ ان کے والد نے بتایا کہ بیٹے کی تیاری کے لیے انہوں نے زمین فروخت کی، لاکھوں روپے قرض لیا اور برسوں محنت کی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ بیٹا ڈاکٹر بن کر خاندان کی زندگی بدل دے گا۔

اتر پردیش میں 21 سالہ رتک مشرا کی موت بھی اسی تنازع سے جوڑی جا رہی ہے۔ ان کے والد کے مطابق یہ ان کی تیسری کوشش تھی اور وہ اپنے امتحان سے مطمئن تھے، مگر پرچہ لیک ہونے کی خبر کے اگلے ہی روز انہوں نے اپنی جان لے لی۔

رپورٹ کے مطابق اس سال 20 لاکھ سے زائد امیدواروں نے نیٹ کا امتحان دیا، جبکہ پورے بھارت میں میڈیکل کی صرف ایک لاکھ 37 ہزار نشستیں دستیاب تھیں، جس کے باعث مقابلہ انتہائی سخت رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ معاشی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے لاکھوں خاندان اپنے بچوں کی تعلیم پر بھاری سرمایہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پرچہ لیک جیسے واقعات نہ صرف طلبہ کا اعتماد مجروح کرتے ہیں بلکہ برسوں کی محنت اور قربانیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

تعلیمی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ امتحانات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

ریما بیگم کے والد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے، کیونکہ غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کا خواب حاصل کرنا پہلے ہی ایک مشکل جدوجہد ہوتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں