ممبئی: دنیا کے امیر ترین کاروباری خاندانوں میں شمار ہونے والے مکیش امبانی کی اہلیہ نیتا امبانی نے فیشن کو محض خوبصورتی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ہندوستانی ثقافت، روایتی فنون اور مقامی دستکاری کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران نیتا امبانی نے جہاں بھی شرکت کی، ان کے ملبوسات صرف ایک فیشن اسٹیٹمنٹ نہیں بلکہ ہندوستان کی صدیوں پرانی ہینڈلوم روایت اور ہنرمندوں کی مہارت کی عکاسی کرتے نظر آئے۔
کرشن کے نقشوں والی جامدانی ساڑھی نے سب کی توجہ حاصل کر لی
حال ہی میں ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی ایک مذہبی تقریب میں نیتا امبانی نے ہاتھی دانت اور شیمپین رنگوں پر مشتمل نفیس جامدانی ساڑھی زیب تن کی، جس نے فیشن ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
اس ساڑھی کی خاص بات اس پر ہاتھ سے تیار کیے گئے بھگوان کرشن کے خوبصورت اپلیکی ڈیزائن تھے، جن کے ساتھ گائیں، ناریل کے درخت، سنہری اور چاندی کے دھاگوں کی نفیس کڑھائی، رنگ برنگے موتیوں کا کام اور پھولدار بارڈر اسے شاہکار بنا رہے تھے۔
روایتی ‘سیدھا پلو’ انداز میں پہنی گئی اس ساڑھی کے ساتھ نیتا امبانی نے زری اور گوٹا پٹی سے مزین بلاؤز، ہیروں کے زیورات اور کلاسیکی انداز کا میک اپ اختیار کیا، جس نے ان کے روایتی انداز کو مزید نمایاں کر دیا۔
ہر تقریب میں ہندوستانی ہنرمندوں کی نمائندگی
یہ پہلا موقع نہیں جب نیتا امبانی نے روایتی ہندوستانی لباس کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہو۔
اسی سال نیویارک میں ٹائم 100 سمٹ کے دوران انہوں نے مغربی بنگال کے معروف بُنکر اور پدم شری ایوارڈ یافتہ بیرن کمار باسک کی تیار کردہ جامدانی ساڑھی پہنی، جسے مکمل ہونے میں تقریباً دو سال لگے، جبکہ اس کی آخری تکمیل پر مزید پانچ ماہ صرف کیے گئے۔
اسی طرح گجرات کے گیر جنگل کے دورے میں انہوں نے جاماور ساڑھی، جبکہ امریکا میں اے اے پی آئی ہیومینیٹیرین ایوارڈ وصول کرتے وقت کانجی ورم ریشمی ساڑھی پہن کر روایتی ہندوستانی فنون کو عالمی اسٹیج پر اجاگر کیا۔
صدیوں پرانی دستکاری آج بھی زندہ

کانجی ورم اور جامدانی دونوں ہی ہندوستان کی قدیم ترین اور معروف ہینڈلوم روایات میں شمار ہوتی ہیں۔
کانجی ورم ساڑھی جنوبی بھارت کے شہر کانچی پورم کی چار سو سال پرانی روایت ہے، جو اپنی مضبوطی، خالص ریشم، سنہری زری اور منفرد بُنائی کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔
دوسری جانب جامدانی انتہائی باریک ململ پر ہاتھ سے تیار کی جانے والی ایسی دستکاری ہے جس میں ہر نقش الگ دھاگے سے بُنا جاتا ہے۔ ایک معیاری جامدانی ساڑھی تیار کرنے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔
‘سودیش’ کے ذریعے ہنرمندوں کی سرپرستی
نیتا امبانی نے 2023 میں “سودیش” کے نام سے ایک خصوصی منصوبہ شروع کیا، جس کا مقصد ہندوستان بھر کے بُنکروں، کاریگروں اور لوک فنکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا اور ان کی صدیوں پرانی مہارت کو نئی نسل تک پہنچانا ہے۔
اسی وجہ سے وہ اپنی بیشتر تقریبات میں سودیش کے تیار کردہ ملبوسات پہنتی ہیں تاکہ مقامی ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی ہو اور دنیا کو ہندوستانی ٹیکسٹائل کی خوبصورتی اور تنوع سے روشناس کرایا جا سکے۔
فیشن یا ثقافتی سفارت کاری؟
فیشن ماہرین کے مطابق نیتا امبانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ لباس صرف پہننے کی چیز نہیں بلکہ ایک ثقافتی پیغام بھی ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر روایتی فنون جیسے جامدانی، کانجی ورم، قلم کاری، گونڈ آرٹ اور دیگر مقامی دستکاری کو جدید فیشن کا حصہ بنایا جائے تو نہ صرف ثقافتی ورثہ محفوظ رہتا ہے بلکہ ہزاروں مقامی ہنرمندوں کو بھی عالمی سطح پر نئی پہچان ملتی ہے۔