میر رضا کی آخری رات میں آخر کیا ہوا؟

فہرستِ مضامین

کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی نوجوان میر رضا علی کی گلستانِ جوہر سے ملنے والی لاش کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔ پولیس مختلف شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تکنیکی معلومات کی مدد سے واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کیس میں نئے پہلو سامنے آ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تفتیش کا مرکزی محور میر رضا کی مالی سرگرمیاں، ان کی آخری نقل و حرکت اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد ہیں۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ میر رضا وافلکس کے علاوہ ڈیجیٹل کرنسی میں بھی سرمایہ کاری کا کاروبار کرتے تھے اور مختلف سرمایہ کاروں کی رقم اس شعبے میں لگائی ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق میر رضا دسمبر 2025 کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہوئے، جس کے باعث انہیں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انہوں نے خسارے کو پورا کرنے کے لیے دوستوں، واقف کاروں اور بیرون ملک مقیم افراد سے بھی قرض اور سرمایہ حاصل کیا، تاہم سرمایہ کاروں کو منافع کی ادائیگی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

28 جولائی کی رات کیا پیش آیا؟

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز سے معلوم ہوا ہے کہ 28 جولائی کی رات تقریباً ساڑھے تین بجے میر رضا نے بہادرآباد چورنگی پر واقع اپنی دکان سے سکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول لیا۔ اس کے بعد وہ گھر گئے، جہاں انہوں نے اپنی گاڑی، سمارٹ واچ، گھر کی چابیاں اور 39 ہزار روپے چھوڑ دیے، جبکہ اپنے والد کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے آن لائن منتقل کیے۔

تحقیقات کے مطابق انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے اور صبح چار بج کر آٹھ منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گلستانِ جوہر روانہ ہوئے۔ راستے میں انہوں نے اپنا موبائل فون پھینک دیا، جو بعد میں یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے تین مزدوروں سے برآمد ہوا۔ سی سی ٹی وی میں انہیں صبح چار بج کر 28 منٹ پر جوہر بلاک 2 میں اکیلے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے قبل رات ساڑھے گیارہ بجے تک میر رضا کی اپنی منگیتر سے گفتگو جاری رہی، تاہم بعد میں منگیتر کی جانب سے کی گئی 30 سے زائد کالز اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

لاش ملنے کی جگہ سے اہم شواہد

پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب نصب کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کر لی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق 29 جولائی کی صبح 3 بج کر 36 منٹ پر ایک موٹر سائیکل تقریباً 22 سیکنڈ تک اس مقام پر رکی جہاں بعد میں لاش ملی۔ اس فوٹیج کے بعد شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاش اسی دوران وہاں منتقل کی گئی۔

جائے وقوعہ سے پستول رکھنے والا ہولسٹر تو برآمد ہو گیا، تاہم پستول اب تک نہیں ملا، جس کی تلاش جاری ہے۔

اہل خانہ کا مؤقف

میر رضا کے والدین نے پولیس کے خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنا کر منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔

احتجاج میں اضافہ

واقعے کے خلاف عوامی ردعمل بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ابتدا میں بہادرآباد چورنگی پر احتجاج کیا گیا، جبکہ بعد ازاں مظاہرین نے شاہراہ فیصل پر نرسری کے مقام پر دھرنا دے کر ٹریفک کا نظام مفلوج کر دیا۔ کئی گھنٹوں تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور جدید تکنیکی شواہد کی مدد سے اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔ اس مرحلے پر پولیس نے حتمی طور پر نہ خودکشی اور نہ ہی قتل کے امکان کو خارج کیا ہے، بلکہ تحقیقات ہر ممکن زاویے سے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں