ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی نئی جنگ یا کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا بلکہ صرف اپنی سرحدوں اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
سرکاری ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کو طول دینے کا خواہش مند نہیں، تاہم ملک کو اندرونی اختلافات اور بیرونی سازشوں سے بھی نمٹنا ہوگا۔ ان کے بقول ایسا مضبوط معاشرہ تشکیل دینا ضروری ہے جہاں دشمن کو دراندازی، انتشار پھیلانے یا ملک کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ مل سکے۔
ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ، ایران نے مسترد کر دیا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایرانی قیادت کے لیے معاہدہ کرنے کا آخری موقع ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ بات چیت ایران کی درخواست پر ہو رہی ہے اور اسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ بھی زیر غور ہے۔
تہران کی سخت تردید
امریکی دعوؤں کے برعکس ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی سختی سے تردید کر دی۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
ایران کی تردید کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو یا تو معاہدہ کرنا ہوگا یا پھر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خطے میں غیر یقینی برقرار
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے امکانات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ اگرچہ ماضی میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے مفاہمتی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم گزشتہ برس تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوبارہ عسکری سرگرمیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔