اسلام آباد میں اپوزیشن نے ایک بار پھر حکومت کو سیاسی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مسائل کا حل صرف بامقصد سیاسی مکالمے سے ممکن ہے، تاہم حکومتی رویہ اس حوالے سے غیر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔
سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے معاملات حل کرنے کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے کانسٹی ٹیوشن روم یا رانا ثنا اللہ کی رہائش گاہ پر ملاقات تک کی تجویز دی، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وزیرِاعظم اور حکومتی مذاکراتی ٹیم سے بامقصد بات چیت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت اربعین کے سلسلے میں عراق میں موجود ہیں، لیکن اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو وہ فوری طور پر پاکستان واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی مذاکرات چاہتی تو اپوزیشن رہنماؤں پر انسدادِ دہشتگردی کے مقدمات قائم نہ کیے جاتے اور نہ ہی ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جاتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مثبت مذاکراتی ماحول پیدا کرنے کے بجائے حکومت سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن قیادت کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حتیٰ کہ اہلِ خانہ کو بھی ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی مذاکرات کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔