میر رضا کیس میں نیا موڑ، موبائل ڈیٹا نے کیا راز کھول دیے؟

فہرستِ مضامین

میر رضا علی خان کی پراسرار موت کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیشی حکام نے ان کا موبائل ڈیٹا ریکارڈ اور فارنزک رپورٹ حاصل کر لی ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک قریبی دوست کو پیغام بھیج کر 3 کروڑ روپے ادھار مانگے تھے۔ پیغام میں انہوں نے لکھا کہ وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں فوری طور پر بڑی رقم درکار ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موبائل ڈیٹا کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ میر رضا مختلف افراد کے مقروض تھے۔ اسی رات ان کی منگیتر نے رات 3 بج کر 10 منٹ سے 3 بج کر 50 منٹ تک مسلسل متعدد پیغامات بھیجے، تاہم میر رضا کی جانب سے کسی بھی پیغام کا جواب نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب تفتیشی حکام کے مطابق میر رضا کی حتمی میڈیکل رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی۔ ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا قرار دی گئی ہے، تاہم اہل خانہ نے اس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات بھی موجود تھے۔

حکام نے واضح کیا کہ اگر اہل خانہ دوبارہ طبی معائنے یا پوسٹ مارٹم کی درخواست کرتے ہیں تو قانونی تقاضوں کے مطابق اس پر کارروائی کی جائے گی۔

تحقیقات کے سلسلے میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور، لاش کی پہلی اطلاع دینے والے شخص سمیت اب تک 15 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تفتیشی ٹیم تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ میر رضا علی خان کی موت خودکشی تھی یا قتل۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں