اسلام آباد: پاکستانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کل (جمعرات) سعودی عرب کا اہم سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور مختلف ممالک پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری رابطوں سے متعلق دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔ امریکی قیادت مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ ایران کسی بھی براہِ راست بات چیت کی تردید کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جلد کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
دوسری جانب تہران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بات چیت صرف سلطنت عمان کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کے انتظامات طے کرنا ہے، نہ کہ امریکہ سے مذاکرات۔
یاد رہے کہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت نے خطے میں جنگ بندی اور ایرانی جوہری تنازع سمیت کئی اہم معاملات کے حل کے لیے 60 روزہ سفارتی عمل کا آغاز کیا تھا۔
اسی معاہدے کے نتیجے میں عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی، جسے ایران نے فروری کے اختتام پر بند کر دیا تھا، جبکہ جواباً امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر سخت پابندیاں اور محاصرہ نافذ کیا تھا۔
تاہم یہ پیش رفت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ جولائی کے آغاز میں دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع ہونے سے مفاہمت کا عمل متاثر ہوا اور معاہدہ عملی طور پر غیر مؤثر ہو گیا۔
امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد ایران نے بھی اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا۔ تہران نے خبردار کیا کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، جس کے باعث عالمی بحری تجارت اور خطے کی سکیورٹی سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے۔