ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سالہ تقرری کا حکم، سنیارٹی پر سوالات اٹھ گئے

فہرستِ مضامین

کراچی: جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے صرف ایک روز قبل مزید تین سال کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

سیکرٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو ڈاکٹر نگہت شاہ کی تین سالہ تقرری کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکومتی ہدایت میں 5 اگست کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 16 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وسیع تر عوامی مفاد، طبی خدمات کے تسلسل، اکیڈمک لیڈرشپ، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ڈاکٹر نگہت شاہ کی تین سالہ تقرری پر غور کیا جائے۔

تاہم نوٹیفکیشن کے اگلے حصے میں ’’غور کرنے‘‘ کے بجائے وائس چانسلر کو تقرری کے لیے فوری ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کابینہ کے فیصلے پر بلا تاخیر عملدرآمد اور کارروائی کی رپورٹ محکمہ جامعات و بورڈز کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے نوٹیفکیشن پر سوالات

ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ تاہم اسی نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 65 سال کی عمر تک ریٹائرڈ فیکلٹی کی کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات حاصل کرنے کی اجازت صرف سہولت فراہم کرنے کی نوعیت رکھتی ہے اور اسے کسی ادارے کے لیے لازمی حکم نہیں سمجھا جائے گا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق متعلقہ میڈیکل یا ڈینٹل ادارہ اپنی ضروریات، قواعد، دستیاب وسائل اور ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسی کنٹریکٹ تقرری سے مستقل ملازمت، سینیارٹی یا ادارے میں مستقل انضمام کا حق پیدا نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی جونیئر فیکلٹی کی ترقی، کیریئر پروگریشن اور کیڈر اسٹرکچر متاثر نہ ہونے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔

مخصوص تقرری پر مزید سوالات

پی ایم اینڈ ڈی سی کی پالیسی میں فیصلہ کرنے کا اختیار متعلقہ ادارے کو دیے جانے کے باوجود ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کا معاملہ صوبائی کابینہ تک پہنچنے اور مخصوص نام کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت جاری ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

خاص طور پر یہ نکتہ بھی زیر بحث ہے کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کا نوٹیفکیشن کسی ایک فرد کی تقرری کا حکم نہیں بلکہ سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کے لیے عمومی پالیسی فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر نگہت شاہ کی ممکنہ تین سالہ تقرری سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی اور ترقی کے معاملات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں