آٹے اور گندم پر سندھ حکومت کا بڑا پلان، کابینہ نے اہم منظوری دے دی

فہرستِ مضامین

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا، جس میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے، آٹے کی قیمتوں میں استحکام، کاشتکاروں کی معاونت، پانی و سیکیورٹی کے نظام اور سرمایہ کاری کے فروغ سمیت مختلف اہم امور پر فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔

گندم اور آٹے کی فراہمی

کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میں گندم کی مجموعی دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ہے، جس میں رواں سال کی 47 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار اور گزشتہ ذخیرے کی ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم شامل ہے۔

کابینہ کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں غیر ظاہر شدہ گندم کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ جولائی میں ایسے ذخائر کا تخمینہ 11 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن تھا جو اگست کے وسط تک کم ہوکر تقریباً 7 لاکھ میٹرک ٹن رہ گیا۔

اجلاس میں مختلف مقامات پر دستیاب پاسکو کی 2 لاکھ 23 ہزار 455 ٹن گندم 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے خریدنے کی منظوری بھی دی گئی۔

فلور ملز کے لیے گندم ذخیرہ کرنے کی حد ایک ماہ کی گرائنڈنگ صلاحیت سے بڑھا کر تین ماہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کی ملز سے ضبط کی گئی 56 ہزار 729 ٹن گندم کو مقامی استعمال کے لیے آٹا تیار کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔

فیصلے کے مطابق متعلقہ فلور ملز کو آٹے کی ایکس مل قیمت 112 روپے فی کلوگرام برقرار رکھنا ہوگی۔

کاشتکاروں کے لیے ڈی اے پی سبسڈی

صوبائی کابینہ نے ربیع 2026-27 کے لیے 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے گندم کے کاشتکاروں کو ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی دینے کی منظوری دے دی۔

اس پیکیج میں نئے کاشتکاروں کی رجسٹریشن، محکمہ مال کے ذریعے تصدیق اور پہلے سے رجسٹرڈ کاشتکاروں کی دوبارہ توثیق شامل ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں اور سپلائی چین کے دباؤ کا اضافی بوجھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں پر نہیں پڑنے دیا جائے گا۔

ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت

مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف نگرانی مزید سخت کرنے اور غیر قانونی منتقلی و ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو کابینہ کے فیصلوں پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضروری اشیا کی مناسب قیمتوں پر دستیابی، کاشتکاروں کی معاونت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں