معروف اداکارہ اور میزبان سعدیہ امام نے شوبز انڈسٹری میں اپنے کیریئر کے دوران پیش آنے والے تلخ تجربات سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بعض قریبی مرد ساتھیوں اور دوستوں نے انہیں دھوکا دیا اور پسِ پردہ ان کے خلاف باتیں کیں۔
نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ امام نے بتایا کہ جب انہوں نے شوبز میں قدم رکھا تو خواتین فنکاروں کی تعداد محدود تھی۔ ان کی عمر اور تجربے کی خواتین بھی کم تھیں، جس کے باعث ان کے زیادہ تر ساتھی مرد فنکار تھے۔
اداکارہ کے مطابق وقت کے ساتھ انہیں اپنے ہی چند قریبی ساتھیوں سے مایوسی ہوئی۔ بعض افراد نے ان کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف باتیں کیں اور کچھ مواقع پر انہیں پیشہ ورانہ طور پر نقصان بھی پہنچایا۔
سعدیہ امام نے بتایا کہ ان کے والد ہمیشہ انہیں مشورہ دیتے تھے کہ جعلی دوست رکھنے سے بہتر ہے انسان اکیلا رہے، تاہم اس وقت وہ اس نصیحت کی گہرائی کو نہیں سمجھتی تھیں۔ بعد میں زندگی کے تجربات نے انہیں بہت کچھ سکھایا۔
اداکارہ نے کہا کہ انہیں کئی مرتبہ اپنے ساتھیوں کو خود یہ کہتے ہوئے سننا پڑا کہ سعدیہ امام کو کاسٹ نہ کیا جائے کیونکہ وہ ’پارٹی گرل‘ نہیں اور شوٹنگ کے دوران زیادہ گھل مل کر نہیں رہتیں۔
ان کے مطابق اس دور میں ڈراموں کی شوٹنگ کے لیے بیرونِ ملک بھی سفر کرنا پڑتا تھا اور بعض ساتھیوں کو ان کے طرزِ زندگی اور رویے سے مسئلہ تھا۔ کچھ لوگ ایسی خواتین فنکاروں کو ترجیح دیتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ دوستانہ انداز میں رہیں، جس کے نتیجے میں انہیں بعض منصوبوں سے نکالا گیا یا ثانوی کردار دیے گئے۔
سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ تکلیف ان لوگوں کے رویے سے ہوئی جو بظاہر ان کے انتہائی قریبی تھے، ان کے گھر آتے جاتے، ساتھ کھانا کھاتے اور وقت گزارتے تھے، لیکن پیٹھ پیچھے ان کے خلاف باتیں کرتے رہے۔
اداکارہ نے کہا کہ ان تلخ تجربات سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور اللہ کے فضل سے وہ مشکل دور بھی گزر گیا۔