وژن 2030 نے سعودی عرب اور فرانس کو مزید قریب کیسے کردیا؟

فہرستِ مضامین

فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات تیل کی تجارت سے آگے بڑھتے ہوئے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جبکہ سعودی عرب میں جاری معاشی اصلاحات نے فرانسیسی کمپنیوں کے لیے تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق 2025 میں فرانس نے سعودی عرب کو تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ فرانس کی جانب سے سعودی مصنوعات کی درآمدات تقریباً 3.7 ارب ڈالر رہیں۔ فرانکو عرب چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر ڈومینیک برونین کے مطابق یہ اعداد و شمار دونوں ممالک کی معیشتوں میں آنے والی بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانس کی سعودی عرب کو برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی توازن ایک مرتبہ پھر فرانس کے حق میں ہوگیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب سے فرانس کی درآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 2022 میں تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی نوعیت ہے۔ فرانس روایتی طور پر سعودی عرب سے بڑی مقدار میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا رہا ہے، تاہم فرانس نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے توانائی کے ذرائع متنوع بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ 2025 میں تیل کی نسبتاً کم قیمتوں نے بھی سعودی درآمدات کی مجموعی مالیت کو متاثر کیا۔

ڈومینیک برونین کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی معاشی تبدیلی کو اس رجحان کے بنیادی محرک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت تیل پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو ٹیکنالوجی، صنعت، سیاحت، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں تک وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں سعودی مارکیٹ میں فرانسیسی مصنوعات اور خدمات کی طلب بھی متنوع ہوگئی ہے۔ ایرو اسپیس اور اس کے پرزہ جات کے علاوہ صنعتی آلات، ادویات، ٹیکنالوجی، پرفیوم اور کاسمیٹکس بھی اہم شعبے بن چکے ہیں۔

برونین کا کہنا ہے کہ فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون اب چند روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سعودی معیشت کی نئی ضروریات کے مطابق مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں فرانسیسی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی اسی تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کو نہ صرف ایک بڑی اور مستحکم مارکیٹ قرار دیا بلکہ اسے خطے کی دیگر عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اہم مرکز قرار دیا۔ ان کے مطابق فرانسیسی کمپنیوں کی سعودی عرب میں دلچسپی کی وجہ صرف مارکیٹ کا حجم نہیں بلکہ وژن 2030 کے تحت جاری بڑے ترقیاتی منصوبے بھی ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، سیاحت، انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی منصوبوں میں سعودی عرب کو نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، جبکہ فرانسیسی کمپنیاں ان شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔

برونین نے فرانسیسی کمپنی ویولیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی سعودی عرب میں پانی کی فراہمی اور پیٹروکیمیکل صنعت سے پیدا ہونے والے فضلے کی صفائی جیسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سعودی کمپنیوں کی جانب سے فرانسیسی اداروں کی تکنیکی مہارت کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس کی ایک اہم طاقت اس کا بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کا طویل تجربہ ہے۔ فرانسیسی کمپنیاں مختلف ممالک میں حکومتوں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بڑے منصوبے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سعودی عرب کے لیے یہ تجربہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ فرانسیسی کمپنیوں سے اب صرف ٹیکنالوجی فراہم کرنے یا منصوبے مکمل کرنے کی توقع نہیں کی جا رہی بلکہ ان سے مقامی معیشت، روزگار اور صنعتی ترقی میں بھی کردار ادا کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔

برونین کے مطابق فرانسیسی کمپنیاں جدت اور تکنیکی مہارت کے ساتھ مضبوط کاروباری شراکت داریاں قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ یہ مواقع صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ فرانس کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے بھی موجود ہیں۔

تاہم ان کے مطابق دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک پہلو اب بھی نسبتاً کمزور دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے سعودی عرب کی فرانس میں سرمایہ کاری۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے فرانس کے ریئل اسٹیٹ، مالیاتی شعبے اور بعض فرانسیسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے، تاہم اس سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر کے مقابلے میں سعودی سرمایہ کاری فرانس میں اب بھی کم نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

تاہم برونین نے واضح کیا کہ اس صورتحال کو سعودی عرب کی فرانس میں کم دلچسپی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بعض سرمایہ کاریوں کا اعلان عوامی سطح پر نہیں کیا جاتا اور وہ خاموشی سے مکمل کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری سے متعلق ادارے کی جانب سے پیرس میں حال ہی میں دفتر کھولنا ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔

اس نئے مرحلے میں فرانس صرف سعودی عرب کو مصنوعات فراہم کرنے والا ملک نہیں بلکہ وژن 2030 کے تحت جاری معاشی تبدیلی میں ایک ممکنہ طویل مدتی شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی فرانس میں اپنی سرمایہ کاری اور کاروباری موجودگی بڑھانے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں