امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے قبل امریکی انٹیلی جنس حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر نے جنگ سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ خامنہ ای کے قتل سے ایران کا موجودہ نظام ختم ہونے کا امکان نہیں، بلکہ ان کی جگہ اس سے بھی زیادہ سخت گیر قیادت سامنے آسکتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انٹیلی جنس حکام نے ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے کے منصوبے کے ممکنہ سیاسی اور سکیورٹی اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
جے ڈی وینس نے بھی احتیاط کا مشورہ دیا
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جنگ شروع ہونے سے قبل ایران کے معاملے میں محتاط پالیسی اختیار کرنے پر زور دیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق وینس نے صدر ٹرمپ کو یہ مؤقف بھی پیش کیا تھا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، اس لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستے کو بھی موقع دیا جانا چاہیے۔
حملے میں خامنہ ای کی ہلاکت
رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے۔ حملے میں تہران میں ان کی رہائش گاہ اور کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
بعد ازاں ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے بھی خامنہ ای کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کردی۔
امریکی انٹیلی جنس کی مبینہ پیشگی وارننگ کے تناظر میں خامنہ ای کی ہلاکت نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ ان کے بعد ایران کی قیادت کس سمت جائے گی اور آیا یہ کارروائی تہران میں موجود سیاسی نظام کو کمزور کرے گی یا اس کے نتیجے میں مزید سخت گیر قیادت سامنے آئے گی۔