لندن: پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے واضح کیا ہے کہ ٹیم کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے کسی سینئر کھلاڑی کو پلیئنگ الیون سے باہر رکھنے میں کوئی قباحت نہیں، میدان میں وہی کھلاڑی اترے گا جو ٹیم کے لیے بہتر ثابت ہو۔
لارڈز ٹیسٹ سے قبل لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ ابھی پلیئنگ الیون کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ انگلینڈ میں کامیابی کے لیے ٹیم کی مجموعی کارکردگی اہم ہوتی ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ کسی سینئر کھلاڑی کو باہر بٹھانا کوئی مسئلہ نہیں، جو کھلاڑی ٹیم کے مفاد میں بہتر ہوگا اسے موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے محمد رضوان پر کسی قسم کے دباؤ کی بھی تردید کی۔
قومی کپتان نے کہا کہ ٹیم کی کوشش ہوگی کہ لارڈز میں مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرکے فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کی جائے۔
ٹیم کے کمزور پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ آخری نمبروں پر آنے والے بیٹرز مطلوبہ رنز بنانے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرے اسپنر کے طور پر سلمان علی آغا کو کھلایا جا رہا ہے۔
اپنی فٹنس کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ وہ لارڈز ٹیسٹ کھیلنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔
قومی ٹیم کے کپتان نے تسلیم کیا کہ گزشتہ میچ میں ٹیم نے اس معیار کی کرکٹ نہیں کھیلی جس کی اس سے توقع تھی۔ ان کے مطابق ٹیم بعض اوقات اچھی پارٹنرشپ قائم کرنے کے بعد مسلسل وکٹیں گنوا دیتی ہے، جس سے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ٹیم کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بولرز مخالف ٹیم کے 20 کھلاڑی آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو بیٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے جواب میں مطلوبہ رنز بنائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ داری صرف محمد رضوان کی نہیں بلکہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔