گل پلازہ میں 72 لوگ جان سے گئے، کیا وزیراعلیٰ سندھ نے استعفیٰ دیا؟: مصطفیٰ کمال

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کراچی میں ہونے والے سانحات کی بنیاد پر وفاقی وزرا سے استعفے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو گل پلازہ سانحے میں 72 افراد کی ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟

ایک انٹرویو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو انتظامی یونٹس سے متعلق بات سخت ناگوار گزری ہے اور ان کے خیال میں پارٹی کا پورا ایجنڈا اسی معاملے کے گرد گھوم رہا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے اپنے استعفے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں جو کچھ کرچکے ہیں، اس کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے بیان نہیں کرسکتے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر وہ وزارت سے مستعفی ہوکر کراچی واپس چلے گئے تو پیپلز پارٹی کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول وہ گزشتہ کچھ عرصے سے محدود مدت کے لیے کراچی جاتے ہیں تو پیپلز پارٹی کی طرز حکمرانی پر بات ہوتی ہے، اگر وہ طویل عرصے تک کراچی میں موجود رہے تو شاید ان کے مخالفین خود انہیں واپس بھیجنے کا مطالبہ کرنے لگیں۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں 72 افراد جان سے گئے، اس واقعے کے بعد کیا وزیراعلیٰ سندھ یا میئر کراچی نے استعفیٰ دیا؟

پمز واقعے کی تحقیقات

پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری کمیٹی نہیں بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے ٹی او آرز واضح ہیں اور کمیٹی اپنی رپورٹ کل شام تک پیش کرے گی۔ ان کے مطابق کمیٹی کی سفارشات پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

استعفے کے سوال پر واضح جواب دینے سے گریز

دوسری جانب جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بھی وفاقی وزیر صحت سے ان کے استعفے سے متعلق سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

میزبان حامد میر نے سوال کیا کہ کیا مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ بھیجا تھا جسے وزیراعظم نے قبول نہیں کیا؟

اس پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ اگر میزبان کو اس بارے میں معلوم ہے تو وہ ان سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔

حامد میر نے پوچھا کہ کیا اس معاملے پر وزیراعظم سے سوال کرنا چاہیے؟ مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ جس ذریعے سے انہیں یہ معلومات ملی ہیں، وہیں سے مزید معلومات حاصل کرلی جائیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں