صوبے کی وحدت کے حق میں قرارداد، سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کی مخالفت کی جائے گی
کراچی: سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پیر کو پیش کی جائے گی، جس میں صوبے کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق قرارداد میں سندھ کو تقسیم کرنے یا صوبے کے انتظامی و جغرافیائی ڈھانچے میں ایسی کسی تبدیلی کی مخالفت کی جائے گی جس سے صوبے کی وحدت متاثر ہو۔ قرارداد کے ذریعے سندھ کی تقسیم سے متعلق سامنے آنے والی مختلف تجاویز پر بھی واضح مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
قرارداد پیش کیے جانے کے بعد سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس پر بحث متوقع ہے، جس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان سندھ کی تقسیم کے معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قرارداد کے ذریعے یہ مؤقف اجاگر کیا جائے گا کہ سندھ ایک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اکائی ہے اور اس کی وحدت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سندھ کی تقسیم کا معاملہ ماضی میں بھی سیاسی اور عوامی سطح پر بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف اوقات میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے کے قیام سے متعلق مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم سندھ کی بڑی سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
پیر کو سندھ اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد سے اس معاملے پر ایوان کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی توقع ہے۔ قرارداد پر بحث کے دوران ارکان کی جانب سے سندھ کی سیاسی، تاریخی اور انتظامی حیثیت سمیت مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال بھی متوقع ہے۔