نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد نئی تباہی کا خدشہ، جھیل پھٹنے کا خطرہ

فہرستِ مضامین

کھٹمنڈو: نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہی کے بعد ایک اور ممکنہ خطرے نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ پہاڑی علاقے میں پانی جھیل کی شکل میں جمع ہونے کے باعث اس کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 1400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں بڑی تعداد غیرملکی سیاحوں کی بھی بتائی جارہی ہے۔

بدھ کو نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ کئی گاؤں ملبے تلے دب گئے جبکہ سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 کلومیٹر کے علاقے میں سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ حکام نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

ریسکیو ٹیموں کو ضلع چتوان کے قریب دریائے نشیبی علاقوں سے بھی سیکڑوں میل دور لاشیں ملنے کی اطلاعات ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے متعدد زخمیوں کو کھٹمنڈو کے اسپتالوں میں منتقل کیا۔

تباہی کی اصل وجہ کیا بنی؟

ابتدائی طور پر نیپال میں ہونے والی تباہی کو سیلاب جبکہ چین کی جانب سے لینڈ سلائیڈنگ کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ بعض رپورٹس میں سیلاب سے قبل گڑگڑاہٹ کی آوازیں سنائی دینے اور جھٹکے محسوس ہونے کا بھی ذکر کیا گیا۔

تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق علاقے میں کوئی بڑا زلزلہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ ادارے کے مطابق تباہی کی ممکنہ وجہ گلیشیئر کا ٹوٹنا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں برف، پانی اور ملبے کا ایک بڑا ریلہ پہاڑی علاقوں سے نیچے کی جانب آیا۔

ماہرین نے اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلی سے بھی جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔

سیاح اور غیرملکی شہری بھی متاثر

متاثرہ علاقے سیاحوں اور مذہبی زائرین کے لیے بھی مقبول ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں غیرملکی سیاح ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں جبکہ متعدد ہندو مذہبی مقامات ہونے کے باعث یاتری بھی ان علاقوں میں آتے ہیں۔

لاپتہ افراد میں بھارت، یوکرین، ملائیشیا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سمیت مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 34 آسٹریلوی شہری نیپال میں لاپتہ ہیں۔

ادھر چین اور نیپال دونوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں