نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد صورتحال بدستور سنگین ہے، جہاں حکام نے مزید سیلاب کے خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں کے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ نیپال اور تبت میں حالیہ قدرتی آفت کے باعث مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 750 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 3 ہزار 44 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں واقع بھوت کوشی دریا میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد نئی سیلابی وارننگ جاری کی گئی۔ اتوار کی صبح شہریوں کے موبائل فونز پر خطرے سے آگاہ کرنے والے پیغامات بھی ارسال کیے گئے۔
دوسری جانب امدادی اور بحالی ٹیمیں اہم شاہراہوں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں، خصوصاً اس راستے کو بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو دارالحکومت کھٹمنڈو کو شدید متاثرہ علاقوں سے ملاتا ہے۔
گلچھی کے علاقے میں شہری محفوظ اور نسبتاً بلند مقامات پر کھڑے ہو کر دریا کے خطرناک بہاؤ کا جائزہ لیتے رہے۔ گزشتہ سیلاب کے دوران پانی کے ساتھ آنے والے بڑے پتھر اب بھی علاقے میں تباہی کی شدت کی یاد دلا رہے ہیں، جبکہ معلق پلوں پر موجود افراد کو سیٹیوں کے ذریعے فوری طور پر وہاں سے ہٹنے کی تنبیہ کی گئی۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دریا کے کنارے واقع متعدد مکانات، گاڑیاں اور ٹریکٹر اب بھی موٹی کیچڑ میں دبے ہوئے ہیں۔ کئی دیہات بری طرح متاثر ہوئے جبکہ دریا کے کنارے واقع چاول کے سیڑھی نما کھیت بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئے اور زمین کے کئی حصے دریا میں بہہ گئے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو چکی ہے جبکہ 2 ہزار 498 افراد لاپتہ ہیں۔
ادھر چینی حکام کے مطابق تبت میں 16 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 546 افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں تقریباً 100 کا تعلق نیپال سے بتایا گیا ہے جبکہ دیگر افراد ایک درجن سے زائد ممالک کے شہری ہیں۔
نیپال میں تازہ سیلابی الرٹ اس وقت جاری کیا گیا جب چینی حکام نے نیپالی حکام کو دریا کے بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیا۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو دھرم راج اپریتی کے مطابق چینی حکام نے دریا کے بالائی حصے میں پانی کی مقدار بڑھنے کی اطلاع نیپالی حکام کو دی، جس کے بعد فوری احتیاطی اقدامات کیے گئے۔
تاہم متاثرہ علاقوں کے رہائشی مسلسل موصول ہونے والی وارننگز سے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں۔ مقامی شہری گووند شریشٹھا کا کہنا ہے کہ بار بار سیلاب کے خطرے کی اطلاع ملنے پر انہیں رات کے وقت بھی اپنے خاندان کو لے کر محفوظ اور بلند مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بوڑھے والدین کو محفوظ مقام تک پہنچانا ان کے لیے انتہائی مشکل کام بن چکا ہے اور مسلسل نقل مکانی نے انہیں بری طرح تھکا دیا ہے۔
سیلاب نے علاقے کے بڑے کنکریٹ پلوں اور چھوٹے رابطہ پلوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث دریا کے دونوں اطراف آباد لوگوں کے درمیان رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
مقامی رہائشی ستن سنگھ تمانگ نے بتایا کہ سیلاب کے بعد بعض لوگ دریا کے ایک طرف جبکہ دیگر دوسری جانب پھنس گئے ہیں، جس کے باعث امدادی سرگرمیوں اور لوگوں کی نقل و حرکت میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی بھی تاحال مکمل نہیں ہوسکی۔ بجلی کے کھمبے جھک گئے ہیں جبکہ تاریں کیچڑ اور ملبے میں الجھی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
دوسری جانب پرتھوی ہائی وے کی بحالی پر بھی کام جاری ہے۔ یہ شاہراہ ملک کے مختلف حصوں سے خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچانے کے لیے اہم سپلائی روٹ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ شاہراہ کا بڑا حصہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، تاہم بعض مقامات پر مرمت اور بحالی کا کام ابھی جاری ہے۔