کراچی: پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر سندھ اسمبلی میں تحریک التوا کے ذریعے بحث کی جائے گی اور ایوان کی اکثریتی رائے اور فیصلے کی روشنی میں قرارداد منظور کی جائے گی۔
نثار کھوڑو نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک التوا پر ہونے والی بحث کا مقصد یہ بھی ہے کہ عوام کے سامنے یہ بات ریکارڈ پر لائی جائے کہ سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے حق میں کون لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ تحریک التوا پر بحث کراکے نئے صوبوں کے حامیوں کو اظہار خیال کا موقع کیوں دیا جا رہا ہے، تاہم اگر اسمبلی میں براہ راست قرارداد بھی پیش کی جاتی تو نئے صوبوں کے حامی ارکان کو اپنی رائے دینے کا موقع ملتا۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر کا کہنا تھا کہ کشمور سے کراچی تک پیپلز پارٹی کے نمائندے آئینی فورم پر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات اور تجاویز کو بھرپور انداز میں مسترد کریں گے، جبکہ نئے صوبوں کے حامیوں کا موقف بھی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بن جائے گا۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی پانچ مرتبہ نئے صوبوں کے خلاف قراردادیں منظور کرچکی ہے، لیکن اس کے باوجود نئے صوبوں سے متعلق مطالبات اور باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام بھی پیپلز پارٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسمبلی میں اس معاملے پر واضح قرارداد لائی جائے، اسی لیے بحث کے بعد اکثریتی رائے کی بنیاد پر قرارداد منظور کی جائے گی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مستقبل میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ زور پکڑتا ہے تو کیا فیصلے جلسوں اور عوامی اجتماعات میں کیے جائیں گے؟
نثار کھوڑو نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے خلاف فیصلہ اکثریتی رائے سے اسمبلی کو کرنا ہے اور یہی آئینی طریقہ کار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کا شروع دن سے دوٹوک مؤقف ہے کہ سندھ کی تقسیم، نیا صوبہ یا نئے انتظامی یونٹس قبول نہیں ہیں اور یہ سندھ کے عوام کا مطالبہ بھی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والے اسمبلی کے اندر اور باہر پریس کانفرنسوں، جلسوں اور دیگر فورمز پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں اور کسی نے انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام سندھ دھرتی کی تقسیم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے اور اسمبلی میں بحث کے بعد اکثریتی رائے سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کی جائے گی۔
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ جب سے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات شروع ہوئی ہے، تب سے پریس کانفرنسوں، جلسوں، سیمینارز، اسمبلی اور ہر فورم پر سندھ کی تقسیم کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور سندھ کی وحدت کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم پانی اور سندھ کی وحدت کے معاملے پر وہ ہر فورم پر سندھ کا مقدمہ فرنٹ لائن پر لڑتے رہے ہیں اور آئندہ بھی لڑتے رہیں گے، اس لیے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا مناسب نہیں۔
نثار کھوڑو نے اپیل کی کہ سندھ کی وحدت کے آئینی فورمز پر دفاع اور تحفظ کرنے والوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دے کر سندھ کی مشترکہ طاقت کو کمزور نہ کیا جائے۔