4 کروڑ پاکستانیوں کے کرپٹو اکاؤنٹس ہونے کا انکشاف

فہرستِ مضامین

چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تقریباً 4 کروڑ پاکستانیوں کے کرپٹو سے متعلق اکاؤنٹس موجود ہیں، جبکہ نوجوانوں کی بڑھتی دلچسپی نے پاکستان کو دنیا کی بڑی کرپٹو مارکیٹوں میں شامل کر دیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ ورچوئل اثاثوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دبئی اور تھائی لینڈ سمیت متعدد ممالک کی حکومتیں بھی اس شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی نسل معاشی طور پر زیادہ خودمختار ہونا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں نے پاکستان میں کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ کو تیزی سے فروغ دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کرپٹو مارکیٹ کے حوالے سے دنیا کی نمایاں مارکیٹوں میں شامل ہو چکا ہے اور تقریباً 4 کروڑ پاکستانی اس شعبے سے وابستہ ہیں۔

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں تک ڈیجیٹل اثاثوں پر پابندی برقرار رہی، تاہم ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کو روکنے کے بجائے اسے مؤثر قوانین اور ضوابط کے تحت لانا ضروری ہے۔

چیئرمین ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی نے بتایا کہ اتھارٹی اب تک ورچوئل اثاثوں سے متعلق 2 بین الاقوامی کمپنیوں کو این او سی جاری کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کو 5 ستمبر تک رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر غیر رجسٹرڈ سرگرمیوں کے خلاف پابندیوں کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صرف 5 ماہ کے دوران ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک ریگولیٹری نظام قائم کیا ہے، جسے دنیا میں تیزی سے تشکیل پانے والے ریگولیٹری فریم ورکس میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن کے معاملے میں پاکستان بھارت سے آگے ہے۔

بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی مجموعی مارکیٹ کا حجم تقریباً 250 ارب ڈالر تک ہے، جبکہ پاکستانیوں کی جانب سے اس شعبے میں 10 سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبے کو استعمال کرنے والوں میں بڑی تعداد 40 سال سے کم عمر افراد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ورچوئل اثاثوں پر 30 فیصد ٹیکس عائد کر رکھا ہے، تاہم پاکستان میں ایسا ٹیکس نظام نافذ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ورچوئل اثاثوں پر کتنا ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری بھی ریگولیٹ ہو اور صارفین غیر ملکی یا آف شور مارکیٹوں کی طرف منتقل بھی نہ ہوں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ اگر اس شعبے پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس عائد کیا گیا تو سرمایہ کار آف شور پلیٹ فارمز کا رخ کر سکتے ہیں، اس لیے حکومت ایک متوازن ٹیکس اور ریگولیٹری نظام تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو پاکستانی پہلے ہی ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، حکومت انہیں ریگولیٹری نظام کے دائرے میں لانا چاہتی ہے۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ مستقبل میں لائسنس کے بغیر کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی، جس سے اس شعبے میں ہونے والے فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی نے مزید بتایا کہ ادارے کے لیے مستقل اسٹاف بھرتی کیا جا رہا ہے اور اتھارٹی نے اب تک حکومتی بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سالانہ تقریباً 41 ارب ڈالر کا زرمبادلہ موصول ہوتا ہے اور اگر ترسیلات اور مالی لین دین کو جدید اور کم لاگت ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دیا جائے تو ملک کو اضافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرانزیکشن کی لاگت میں کمی کے ذریعے تقریباً 2 ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ پاکستان لانے کی گنجائش موجود ہے۔

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ اتھارٹی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ بیرون ملک سے رقوم اور زرمبادلہ کم لاگت اور مؤثر طریقے سے پاکستان کیسے لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ غیر رسمی یا گرے مارکیٹ میں ہونے والے مالی لین دین کو بھی باقاعدہ نظام میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مستقبل میں اسلامی مالیات اور ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور حکومت اسی مقصد کے لیے جدید، محفوظ اور مؤثر ریگولیٹری نظام تشکیل دینے پر کام کر رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں