لاہور کا کوئی کاروباری شخص سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتا: مراد علی شاہ

فہرستِ مضامین

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے مستقبل یا صوبے کی تقسیم کا فیصلہ کسی عدالت، جلسے، ٹی وی پروگرام یا سیمینار میں نہیں بلکہ سندھ اسمبلی کے منتخب نمائندے کریں گے، جبکہ سندھ ہمیشہ ایک صوبہ رہے گا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی ماضی میں بھی متعدد مرتبہ قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ ان کے مطابق 1948، 2000، 2014، 2019 اور 2026 میں سندھ کی تقسیم کے خلاف اسمبلی میں قراردادیں منظور کی جاچکی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ لاہور کے کسی کاروباری شخص یا کسی دوسرے فورم پر نہیں ہوگا بلکہ سندھ اسمبلی کے منتخب ارکان ہی اس معاملے پر فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم سے متعلق بحث بھی اسی ایوان میں ہوگی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس مرتبہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر تفصیلی بحث کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف اسمبلی میں سنا جائے گا۔ ان کے مطابق بحث کو ایک مناسب اور حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تحریکِ التوا کو قرارداد پر ترجیح حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس کے دوران اسمبلی کا دیگر کاروبار معطل کرکے کسی اہم معاملے پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔ تحریکِ التوا پیش کرنے کے لیے 34 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے اور اپوزیشن چاہے تو یہ تحریک پیش کرسکتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخالف جماعتوں میں سندھ کی تقسیم کے حوالے سے قرارداد لانے کی ہمت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی کا فیصلہ پہلے بھی آچکا ہے اور آئندہ بھی یہی فیصلہ سامنے آئے گا۔

مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ عدالت کا کوئی فیصلہ، عوامی جلسہ، ٹی وی پروگرام یا سیمینار سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں، تاہم صوبے کی تقسیم کا آئینی اور سیاسی فیصلہ سندھ اسمبلی ہی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے مستقبل پر بحث کا اصل فورم سندھ اسمبلی ہے، جہاں صوبے کے منتخب نمائندے عوام کی رائے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے بقول سندھ صدیوں سے قائم ہے اور سندھ کے عوام نے اسے دوبارہ متحد رکھا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام نے پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستان کے حوالے سے قرارداد بھی اسی ایوان سے منظور ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں، سندھ صوبہ قائم رہے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے حوالے سے اٹھنے والی تمام آوازوں کا جواب سندھ اسمبلی دے گی۔ آئین کے تحت ریاستی اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے سندھ اسمبلی ہی اس معاملے پر بحث اور فیصلے کا اصل فورم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹی وی یا دیگر فورمز پر سندھ کی تقسیم کے حوالے سے ہونے والی بحث کا کوئی فیصلہ کن اثر نہیں ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر سندھ کی تقسیم کے خلاف ایک بار پھر قرارداد منظور کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم پر بحث آج، کل یا پرسوں تک جاری رکھی جاسکتی ہے، تاہم اس بحث کو ایک مناسب اور واضح نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں