پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم

فہرستِ مضامین

بشکیک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں شامل ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو دہشت گرد عناصر کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی امن اور استحکام کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے اور تنظیم کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایس سی او کا ایک فعال اور ذمہ دار رکن ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور متعدد چیلنجز سے دوچار ہے، جبکہ ایس سی او مشترکہ مسائل کے حل کے لیے رکن ممالک کے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی بحران نے محفوظ توانائی راہداریوں کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان نے بحران کے دوران امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور اس کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور پاکستان پائیدار علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

عالمی معاہدوں پر مکمل عمل ضروری

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی حقیقی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

انہوں نے پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، اس لیے اسے سیاسی مقاصد یا دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔

فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی المیہ ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام کیا جائے۔

ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی، آئی ٹی اور اے آئی پر توجہ

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھال رہا ہے اور اس کا مقصد تنظیم کے وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، جبکہ پاکستان اپنی چیئرمین شپ کے دوران توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو خصوصی ترجیح دے گا۔

وزیراعظم کے مطابق صحت، ثقافت اور کھیل بھی پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کی اہم ترجیحات میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کی تجویز بھی پیش کرے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا وژن رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہے اور ایس سی او کے رکن ممالک باہمی تعاون کے ذریعے ایک بہتر مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او نے تصادم کے بجائے تعاون اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ بہتر رابطہ کاری عوام کو قریب لائے گی، جدت نئے مواقع پیدا کرے گی اور مشترکہ خوشحالی خطے کے روشن مستقبل کی بنیاد بنے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں