پاکستانی اداکار سہیل سمیر نے تقریباً ایک دہائی پرانی مختصر فلم ’دوسری عورت‘ کا متنازع کلپ سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہونے کے بعد عوام سے معافی مانگ لی۔
سہیل سمیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تمام افراد سے دلی معذرت کرتے ہیں جنہیں اس وائرل کلپ کے باعث دکھ، تکلیف یا مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکار نے وضاحت کی کہ وائرل ہونے والا کلپ تقریباً 10 سال پرانا ہے اور اس وقت شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ماضی میں کیا گیا کوئی کام برسوں بعد دوبارہ اس انداز میں سامنے آسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلپ دوبارہ سامنے آنے کے بعد انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ان کے اپنے گھر میں بھی ماں، بہنیں اور بیٹیاں موجود ہیں۔ سہیل سمیر کے مطابق انہوں نے سوچا کہ اگر ان کے خاندان کے کسی فرد سے متعلق ایسا مواد سامنے آتا تو انہیں کیسا محسوس ہوتا۔
اپنے ماضی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ انہیں واقعی شرمندگی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں، انہیں اس وقت ایسا مواد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
سہیل سمیر نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ عزت بنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن اسے ختم ہونے میں صرف ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا صارفین سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور دل سے اس پر شرمندہ ہیں۔ اداکار نے لوگوں سے اپیل کی کہ انہیں صرف ماضی کی ایک غلطی کی بنیاد پر نہ پرکھا جائے بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا جائے جس نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر سہیل سمیر نے ایک بار پھر تمام لوگوں سے دلی معذرت کرتے ہوئے معافی کا طلبگار ہونے کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ’دوسری عورت‘ ایک کرائم تھرلر مختصر فلم ہے، جسے اورینٹل انٹرٹینمنٹ نے پیش کیا تھا۔ فلم کی ہدایت کاری کرم ریاض نے کی جبکہ اس کی کہانی راؤ قربان علی نے تحریر کی۔