سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے معاملے پر بحث، ارکان کا واضح مؤقف

فہرستِ مضامین

کراچی: (شبیر لاشاری) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں سندھ کی تقسیم، سندھو دیش اور نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات کے معاملے پر ارکان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے سندھ کی وحدت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم اور سندھو دیش کے خلاف ایوان میں مشترکہ قرارداد منظور کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی وحدت، پاکستان اور بھائی چارے کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر واضح پیغام دینا ہوگا۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ انتہائی جذباتی ہے اور اس حوالے سے نفرت یا تفریق کی باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سندھ میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید کی نشاندہی کی جائے تو وہ اسے خندہ پیشانی سے قبول کریں گے، کیونکہ حکومت اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے اور خامیوں کی اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ نثار کھوڑو نے سندھ کی وحدت کے حوالے سے جو سلسلہ شروع کیا ہے، اسے مشترکہ قرارداد کی شکل میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے اور سندھ کی وحدت برقرار رہے گی۔

وفاقی وزراء کو سندھ کی تقسیم کی بات سے گریز کرنا چاہیے: امتیاز شیخ

سندھ اسمبلی کے رکن امتیاز شیخ نے کہا کہ وفاقی وزراء کو سندھ کی وحدانیت کے خلاف بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وفاقی وزراء کو نئے صوبوں کی بات کرنے سے روکیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ایک پرامن صوبہ ہے اور یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی، قلندر شہباز اور سچل سرمست کی دھرتی ہے۔ سندھ کی تقسیم کی بات کی جائے گی تو اس کا ردعمل بھی آئے گا اور صوبے کی وحدانیت کے خلاف کوئی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا۔

امتیاز شیخ نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے مراد ڈویژنز، اضلاع اور تحصیلیں ہیں، جنہیں ضرورت کے مطابق بااختیار بنایا جاسکتا ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ہے تو اس حوالے سے باقاعدہ تجاویز سامنے لائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ لوکل باڈیز کو اختیارات دینا اچھی بات ہے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز سامنے آنی چاہئیں۔

’سندھ کی تقسیم کے علاوہ ہر معاملے پر بات ہوسکتی ہے‘

امتیاز شیخ نے واضح کیا کہ سندھ کی وحدت ختم کرنے پر کوئی بات نہیں ہوسکتی، البتہ سندھ کی تقسیم کے علاوہ ہر معاملے پر بات کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سب کا ہے اور پورے پاکستان کا گلدستہ ہے۔ ملک بھر سے لوگ کراچی آتے ہیں اور ملکی معیشت میں شہر کا کلیدی کردار ہے۔ کراچی اور سندھ کی ترقی کے لیے اتحاد اور بھائی چارہ ضروری ہے۔

امتیاز شیخ نے مزید کہا کہ پانی اور زمین سندھ کے لیے ریڈ لائن ہیں کیونکہ دونوں کا براہِ راست تعلق زندگی اور زراعت سے ہے۔ سندھ نے ملک کے لیے کوئلہ، بجلی، تیل اور گیس برداشت کیا ہے، تاہم پانی اور زمین کی تقسیم کی کوشش کی گئی تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ سندھ ناقابلِ تقسیم ہے اور اس کی وحدت و سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

’ہم پناہ گزین نہیں، برابر کے شہری ہیں‘

سندھ اسمبلی کے رکن اعجاز الحق نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ پناہ گزین نہیں بلکہ پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت جب قراردادِ پاکستان پیش کی جارہی تھی تو ان کے لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے کی تیاری کررہے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت ان کے خاندان شدید مشکلات اور ہجرت کے کرب سے گزر رہے تھے۔

اعجاز الحق نے کہا کہ پاکستان بننے کے وقت ان کے گھر جلائے جارہے تھے اور بزرگ، بچے اور خاندان ہجرت کے صدمے سے گزر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہجرت کے دوران بچے اپنے والدین سے پوچھتے تھے کہ وہ اپنے لہلہاتے کھیت چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قراردادِ پاکستان کی منظوری کے وقت ان کے حالات مختلف تھے اور انہیں قرارداد پیش کرنے کا موقع نہیں ملا، کیونکہ وہ اس وقت ہجرت کی تیاری میں مصروف تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں