تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کا اسرائیل بھرپور اور طاقتور جواب دے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ایرانی کارروائی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنی تیاریاں کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کا سخت اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔
کسی سے آزاد ہو کر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کاٹز
اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس وقت اسرائیل، آبنائے ہرمز اور توانائی کی سلامتی سے متعلق امریکی مفادات کے پیش نظر ایران کے خلاف کارروائیوں میں واشنگٹن کو مرکزی کردار ادا کرنے دے رہا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنایا تو تل ابیب کسی بھی دوسرے فریق سے آزاد ہو کر اپنی پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔
یسرائیل کاٹز نے کہا، “اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے اور اس معاملے میں کسی دوسرے فریق کے فیصلے کے پابند نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا اور اب تل ابیب ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیوں کی بحالی کی کسی بھی کوشش پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدت
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان عسکری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے تقریباً 100 مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں زیادہ تر اہداف پاسداران انقلاب سے متعلق تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں میں پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، بحری ڈھانچے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بینسٹ نے ایران پر معاشی دباؤ اور پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران کا میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب
امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے کویت، بحرین، اردن اور عراق کی سمت ڈرونز اور میزائل داغے، تاہم اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر کو راستے میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس سے قبل امریکی ذرائع نے بتایا تھا کہ واشنگٹن نے تل ابیب کو ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے اور کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد اسرائیل کو بھی کشیدگی نہ بڑھانے کے لیے کہا گیا تھا، تاہم تل ابیب اس مفاہمت سے مطمئن نہیں تھا۔
بعد ازاں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث یہ مفاہمت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور خطے میں ایک مرتبہ پھر عسکری کشیدگی بڑھ گئی۔