بین الاقوامی: فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے دیگر ممالک سمیت 12 ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی سامان کی درآمد پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، آئرلینڈ، آئس لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال اور سویڈن شامل ہیں۔
بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، برطانوی وزیراعظم برنہم اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور بستیوں کی توسیع میں ’’غیر معمولی‘‘ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل کے مجوزہ E1 منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
12 ممالک نے آئرلینڈ، اسپین، نیدرلینڈز، ناروے اور بیلجیئم کی جانب سے پہلے سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر بستیوں کی توسیع روکے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث آبادکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک نے فلسطینی علاقوں کے الحاق یا فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا باعث بننے والے کسی بھی اقدام کی سختی سے مخالفت کی ہے۔
بیان میں اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔