اِشفاق احمد
11 ستمبر 2001۔۔۔ ایک ایسا دن جس نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کی سیاست، سلامتی اور خارجہ پالیسی کا رخ بدل دیا۔
القاعدہ کے 19 ہائی جیکرز نے چار مسافر طیارے اغوا کیے۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، ایک طیارہ پینٹاگون سے جا ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا۔
اس حملے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

لیکن نائن الیون کی تباہی صرف ان ہلاکتوں تک محدود نہیں رہی۔
اس واقعے کے بعد امریکا نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا اعلان کیا، اور آنے والی دو دہائیوں میں افغانستان سے عراق، پاکستان، یمن، صومالیہ، شام، لیبیا اور دیگر خطوں تک فوجی کارروائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔
افغانستان: جنگ کا پہلا محاذ
نائن الیون کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد، 7 اکتوبر 2001 کو امریکا نے افغانستان میں ’’آپریشن اینڈورنگ فریڈم‘‘ شروع کیا۔
چند ہی ہفتوں میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا، لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی۔
یہ تنازع چار امریکی صدور کے ادوار تک جاری رہا اور تقریباً 20 سال بعد 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے ’’کاسٹس آف وار‘‘ منصوبے کے مطابق افغانستان میں جنگ کے براہ راست نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 76 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بھوک، بیماری اور دیگر بالواسطہ اثرات نے مزید بڑے پیمانے پر انسانی جانیں لیں۔
جنگ سے پہلے افغانستان میں غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی شرح تقریباً 62 فیصد تھی، جو جنگ کے بعد بڑھ کر 92 فیصد تک پہنچ گئی۔
اور پھر 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ طالبان ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار میں واپس آگئے۔
عراق: دوسرا بڑا محاذ

افغانستان پر حملے کے دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ امریکا نے 19 مارچ 2003 کو عراق پر حملہ کردیا۔
صدام حسین حکومت کا خاتمہ ہوا، لیکن عراق ایک طویل جنگ، فرقہ وارانہ تشدد اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔
اعداد و شمار کے مطابق عراق میں جنگ کے براہ راست نتیجے میں 3 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی فوجی کارروائیاں صرف افغانستان اور عراق تک محدود نہیں رہیں۔
پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون اور فضائی حملے کیے گئے، جبکہ بعد میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیے گئے۔
پاکستان میں ڈرون جنگ
پاکستان بھی اس جنگ کا اہم محاذ بنا۔

بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کے اعداد و شمار کے مطابق 2004 کے بعد امریکا نے پاکستان میں 423 ڈرون حملے کیے۔
ان حملوں میں مختلف اندازوں کے مطابق 2499 سے 4001 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 424 سے 966 عام شہری بھی شامل تھے۔
یمن میں کم از کم 186 امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 853 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 158 شہری شامل تھے۔
صومالیہ میں 2001 سے 2016 کے دوران امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں مختلف اندازوں کے مطابق 188 سے 276 افراد ہلاک ہوئے۔
داعش کے خلاف جنگ اور شہری ہلاکتیں
2014 میں امریکا کی قیادت میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف ’’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘‘ شروع کیا گیا۔
امریکی حکام نے فوجی کارروائیوں کے دوران 1417 شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا۔
تاہم شہری ہلاکتوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’’ایئروارز‘‘ کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، اور اس نے 8264 سے 13360 شہری ہلاکتوں کا تخمینہ پیش کیا۔
نائن الیون کے بعد کتنی انسانی قیمت ادا کی گئی؟
براؤن یونیورسٹی کے ’’کاسٹس آف وار‘‘ منصوبے کے مطابق 2001 کے بعد امریکی زیرِ قیادت جنگوں کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 45 سے 47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
ان میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار براہ راست ہلاکتیں شامل ہیں، جبکہ 36 سے 38 لاکھ افراد بیماری، غذائی قلت، صحت کے مسائل اور جنگ کے دیگر بالواسطہ اثرات کے باعث جان سے گئے۔
یہ جنگیں صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں رہیں۔
تخمینوں کے مطابق افغانستان، عراق، پاکستان، یمن، صومالیہ، فلپائن، لیبیا اور شام میں 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
امریکی فوج کو بھی بھاری نقصان
افغانستان میں دو دہائیوں کے دوران 8 لاکھ سے زائد امریکی فوجیوں نے خدمات انجام دیں۔
2021 میں آخری امریکی فوجی دستوں کے انخلا تک تقریباً 2500 امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہوچکے تھے۔
امریکا، برطانیہ اور اتحادی افواج کے مجموعی طور پر تقریباً 3500 اہلکار ہلاک اور 23 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوئے۔
عراق جنگ میں ڈیفنس کژولٹی اینالیسس سسٹم کے مطابق 3481 امریکی فوجی ہلاک اور 31 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں
نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگوں نے امریکا پر بھی طویل مدتی مالی اور سماجی بوجھ ڈالا۔
’’کاسٹس آف وار‘‘ منصوبے کے مطابق ان جنگوں میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں کی دیکھ بھال پر امریکا کو 2050 تک 2.2 سے 2.5 ٹریلین ڈالر تک خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔
کئی سابق فوجی آج بھی جنگی تجربات کے باعث ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔
مجموعی طور پر امریکا نے نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگوں پر تقریباً 5.8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جبکہ سابق فوجیوں کی مستقبل کی دیکھ بھال کے اخراجات کو شامل کیا جائے تو مجموعی مالی بوجھ 8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔
25 سال بعد سوال اب بھی باقی ہے
نائن الیون کو 25 سال گزر چکے ہیں۔
اس ایک حملے نے امریکا کی خارجہ پالیسی، عالمی سلامتی اور مشرق وسطیٰ سمیت کئی خطوں کی سیاست کو بدل دیا۔
افغانستان میں دو دہائیوں کی جنگ کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے۔
عراق میں حکومت تبدیل ہوئی، لیکن ملک کو طویل عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب پاکستان، یمن، صومالیہ، شام اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔
نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے کہیں آگے بڑھ کر دنیا کی سیاست، معیشت اور انسانی زندگیوں کو متاثر کیا۔
25 سال بعد اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نائن الیون میں کیا ہوا تھا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگوں نے دنیا کو کہاں پہنچایا، اور اس پوری جنگ کی اصل قیمت کس نے ادا کی؟