وفاقی حکومت نے لوڈشیڈنگ کرنے کا اعتراف کرلیا

فہرستِ مضامین

وفاقی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے بتایا گیا ہے اس کے علاوہ ڈیڑھ روپیہ فی یونٹ اضافہ بھی ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق سب سے بڑا چئلینج شام سے لیکر رات تک کے پیک آورز میں درپیش ہے جہاں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر اس لیے کہ ان دنوں پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار بہت کم ہوگئی ہے۔ اگر ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مہنگے ایندہن پر انحصار کیا جائے تو اس سے بجلی کی قمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شام 5 بجے سے رات ایک بجے تک تقریبا ڈھائی گھنٹے بجلی کی فراہمی کو بند کیا جائے گا تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم از سے کم رکھا جائے۔
یاد رہے کہ امریکہ، اسرائل اور ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی آمد کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مقامی اور عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اب بجلی کی فراہمی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ کا مقصد بجلی کی قیمت میں 3 روپے فی یونٹ کو روکنا ہے لیکن فرنس آئل کے استعمال کو محدود رکھنے کے باوجود صارفین کو فی یونٹ ڈیڑھ رپے اضافے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں