مغربی سیاست میں قیادت کا بحران: اسٹارمر کی رخصتی اور جمہوری نظام پر بڑھتے سوالات

فہرستِ مضامین

تحریر: اِشفاق احمد

برطانیہ کے وزیرِاعظم Keir Starmer کی اچانک رخصتی نے ایک بار پھر مغربی دنیا میں سیاسی قیادت کے بحران کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں کئی رہنما عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔

اسٹارمر، جنہوں نے بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کیا تھا، صرف دو سال کے اندر اپنی پالیسیوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ ان کی حکومت کو معاشی دباؤ، مہنگائی، ادارہ جاتی کمزوری اور پارٹی کے اندرونی اختلافات نے بری طرح متاثر کیا۔ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے اعتمادی نے ان کی سیاسی رفتار کو مزید کمزور کر دیا۔

یہ صورتحال صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔ یورپ اور مغرب کی کئی بڑی جمہوریتیں اسی طرح کے بحران سے گزر رہی ہیں۔ فرانس کے صدر Emmanuel Macron اپنی اصلاحاتی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد میں ناکام رہے، جس کے باعث ملک میں سیاسی بے چینی اور احتجاجی تحریکوں میں اضافہ ہوا۔ ان کی حکومت کو بار بار کابینہ تبدیلیوں اور عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح امریکہ میں سابق صدر Donald Trump پر بھی مہنگائی اور معاشی دباؤ جیسے مسائل پر واضح حکمتِ عملی نہ دینے کے الزامات لگتے رہے، جس نے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔

جرمنی میں چانسلر Friedrich Merz کو بھی معاشی سست روی اور عوامی ناراضی کے باعث کم مقبولیت کا سامنا ہے، جبکہ آسٹریلیا کے وزیرِاعظم Anthony Albanese کی ابتدائی کامیابیاں اب مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران کے باعث دباؤ میں ہیں۔

اٹلی کی وزیراعظم Giorgia Meloni نسبتاً اس رجحان سے بچی ہوئی ہیں، جبکہ جاپان میں Sanae Takaichi اور کینیڈا کے رہنما Mark Carney اپنے اپنے ملکوں میں نئی سیاسی سمت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق جدید دور میں رہنماؤں کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوامی توقعات اور حقیقی معاشی حالات کے درمیان بڑھتا ہوا خلا ہے۔ سوشل میڈیا، عالمی معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی پیچیدگیاں اکثر حکومتوں کو اپنے وعدے پورے کرنے سے روکتی ہیں۔

برطانیہ میں اب نئی قیادت کے طور پر Andy Burnham کا نام سامنے آ رہا ہے، جنہیں لیبر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی حمایت حاصل ہے۔ وہ خود کو روایتی سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے ہٹ کر ایک عملی اور عوامی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نئی قیادت بھی عوامی اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی تو مغربی جمہوریتوں میں بے یقینی اور سیاسی انتہاپسندی مزید بڑھ سکتی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

یہ بحران اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ آیا موجودہ سیاسی ڈھانچے واقعی جدید دور کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا پھر مغربی دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں روایتی قیادت کا تصور بدل چکا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں