کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے سندھ بھر میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں بدانتظامی اور نااہلی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیسکو، سیپکو اور کے-الیکٹرک عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک کو نجی شعبے میں دینے کے باوجود کراچی میں آج بھی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں متعدد بار یہ معاملہ اٹھایا جاچکا ہے اور ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے عوام کو مطلوبہ سہولت دینے میں ناکام ہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اگر بجلی فراہم کرنے والے ادارے منافع کما رہے ہیں تو حکومت کو عوام کے لیے بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا مستقل اور مؤثر نظام بنانا چاہیے۔ صرف بجلی کے بلوں کی وصولی یا نیا میکنزم بنانے کی بات کافی نہیں، بلکہ نچلی سطح تک مؤثر نظام اور جوابدہی یقینی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کون صارف بجلی کا بل ادا کر رہا ہے اور کون نہیں۔ بل ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاہم جو صارفین باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں، انہیں بجلی کی بنیادی سہولت ہر صورت فراہم کی جانی چاہیے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ بعض علاقوں میں 18، 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ گرمی کے موسم میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بجلی کا مسئلہ صرف سندھ یا کراچی تک محدود نہیں بلکہ اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی بھرپور انداز میں اٹھایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پانی اور گیس کی فراہمی کے مسائل بھی اسی نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے کراچی میں پانی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے لیے پینے کے پانی کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے اور صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے کراچی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بجلی، گیس، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک وسیع تر قومی مسئلہ ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر متفق ہوکر متعلقہ اداروں کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی حیسکو، سیپکو اور کے-الیکٹرک کے نمائندوں کو طلب کرچکی ہے، تاہم مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے پارلیمانی کمیٹی کو مطمئن نہیں کرتے تو انہیں دوبارہ طلب کیا جائے اور گیس، پانی اور بجلی سے متعلق اداروں اور وزارتوں کے نمائندوں کو بھی کمیٹی کے سامنے جوابدہی کے لیے بلایا جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر متعلقہ ادارے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے تو قانون کے مطابق ان کے خلاف مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔
قائداعظمؒ کے اصولوں پر متحد ہونے کی اپیل
اس سے قبل قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ وفات کے حوالے سے شرجیل انعام میمن نے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظمؒ نے اپنی انتھک محنت، جدوجہد اور قربانیوں سے پاکستان کے قیام میں تاریخی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ قوم کو آج یہ عہد کرنا چاہیے کہ ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کو قومی زندگی کا حصہ بنایا جائے گا۔
شرجیل میمن کے مطابق بدقسمتی سے آج قوم سیاسی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کا شکار ہے، اس لیے نفرتوں اور اختلافات کو ختم کرکے ایک متحد قوم بننے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس کی تمام اکائیاں اس کا حصہ ہیں، اس لیے چاروں صوبوں کو مل کر ملک کو مضبوط بنانا ہوگا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سیاسی اور باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کے لیے متحد ہونا ہی قائداعظمؒ کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔